جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

کابل میں بم دھماکہ، طالبہ سمیت 50 سے زائد افراد جاں بحق

datetime 9  مئی‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کابل(این این آئی) افغان دارالحکومت کابل میں ایک سکول کے باہر خودکش کاربم کے بعدیکے بعد دیگر ے دوبم دھماکوں میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر58 ہوگئی جبکہ 150 سے زائد افراد زخمی ہوگئے جنہیں شہرکے مختلف ہسپتالوں میں داخل کرادیا گیا ہے جن میں کئی افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے جن کی وجہ سے ہلاکتوں

میں مزید اضافہ کا خدشہ ہے۔سیدالشہداء سکول کے سربراہ علی خان احسانی اور افغان وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان کے مطابق ہفتہ کی سہ پہر تقریباً ساڑھے چار بجے کابل شہر کے مغرب میں واقع دشت ارچی کے علاقے میں سیدالشہداء ہائی سکول کی عمارت کے داخلی دروازے کے باہر پہلے ایک کرولاکارنے آکر بم دھماکہ کرایا جس کے چند منٹ بعد مزیددو دھماکے ہوئے جن کی زدمیں آکر سکول سے رخصت ہونے والی متعدد طالبات سمیت سینکڑوں افرادجاں بحق اور زخمی ہوگئے۔خودکش کاربم دھماکے علاوہ دو بم دھماکوں کی نوعیت کے بارے میں افغان حکام نے کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی۔اطلاعات ملتے ہی سیکیور ٹی فورسز کی بڑی تعدادنے علاقے کا گھیراؤکرلیا اورسائرن بجاتی ہوئی درجنوں ایمبولینس گاڑیاں تیزی سے جاں بحق اور زخمیوں کو شہر کے ہسپتالوں میں منتقل کرنے لگ گئیں۔اس موقع پر مقامی لوگ اپنے پیاروں اور لخت جگر کو ڈھونڈتے رہے جبکہ بعض افراد میں شدید اشتعال بھی دیکھنے میں آیا اورایمبولینس گاڑیوں پر حملہ آوربھی ہوئے۔ بتایاجاتا ہے کہ یہ سکول کابل کے مغرب میں ہزارہ شیعہ کمیونٹی کے علاقے دشت ارچی میں واقع ہے۔وزارت تعلیم کی ترجمان نجیبہ آریان کے مطابق سیدالشہدا ہائی سکول میں طلبہ و طالبات کی روزانہ دو شفٹیں چلائی جاتی ہیں جہاں آخری شفٹ طالبات کے

لئے مختص ہوتی ہے جس کے دوران دھماکے کراکے طالبات کو نشانہ بنایا گیا۔اْنہوں نے بتایا کہ دھماکوں کی زدمیں آکر سکول کی متعدد طالبات جاں بحق اور زخمی ہوگئیں۔یہ دھماکے اْس وقت کئے گئے جب سکول سے طالبات اپنے گھروں کو واپس جارہی تھیں۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے ہفتہ کے روز ابتدائی طورپر30 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی تھی تاہم اتوار کے روز افغان وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ ان دھماکوں

میں جاں بحق افراد کی تعدادبڑھ کر58 تک جاپہنچی ہے۔ ادھراتوار کے روز جاں بحق افراد کی تدفین کا سلسلہ بھی جاری رہا۔سکول کے باہر ان دھماکوں کی ذمہ داری ابھی تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے داعش کو واقعہ کا ذمہ دارٹھہرایا ہے۔ افغان صدراشرف غنی نے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے طالبان کو واقعہ کا ذمہ دار قراردیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…