جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا ،17ہزار مترجمین کی زندگی خطرے میں پڑگئیں

datetime 9  مئی‬‮  2021 |

واشنگٹن (این این آئی )امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے رواں سال 11 ستمبر تک افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کی واپسی کے فیصلے کے نتیجے میں ہزاروں افغان مترجمین کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔امریکی میڈیا نے بتایاکہ11 ستمبر 2021 تک افغانستان میں موجود تمام امریکی فوجیوں کی واپسی کے نتیجے میں شدت

پسند تحریک طالبان کی جانب سے امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے 17 ہزار مترجمین کے اغوا اور قتل کا خدشہ ہیں۔امریکی رکن کانگریس مائیکل میک کال نے کہا کہ افغان ترجمانوں کو اندازہے کہ امریکی فوج کی واپسی کے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک ہوسکتا ہے۔ اگر امریکا ان کی مدد نہیں کرتا ہے تو انہیں ایک تکلیف دہ انجام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔میک کال کا مزید کینا تھا کہ یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم امریکی فوج یا امریکی اداروں کے ساتھ کام کرنیوالے افغان ترجمانوں کو القاعدہ اور طالبان سے تحفظ فراہم کریں۔ اگر ہم نے انہیں ویزے نہیں دیے تو دشمن انہیں ذبح کردے گا۔امریکی کانگریس کے ایک دوسرے رکن وریان کروکر جو سابق صدر باراک اوباما کے دور میں افغانستان میں امریکی سفیر بھی رہ چکے ہیں نے ابتایا کہ سنہ 2014 سے طالبان انہیں خائن سمجھتے ہیں۔ ہمارے ساتھ کام کرنے والے افغانوں پر قتل سمیت 300 حملے ہوسکتے ہیں۔ اگر ہم نے انہیں فوری تحفظ فراہم نہ کیا تو ان میں سے بیشتر کو قتل کردیا جائے گا۔ایک دوسرے امریکی رکن کانگریس مائیک والٹز نے کہا کہ ترجمانوں کا انجام تاریک ہے۔ دشمن ان کا تعاقب کرتا ہے۔ وہ ہم سے رابطے میں ہیں۔ میںں واضحکردوں کہ افغانستان میں امریکیوںکے لیے ترجمانی کرنیوالوں کی زندگی خطرے میں ہے اور وہ خوف کا شکار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…