جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

”کوئی ہمیں آکسیجن سلنڈر دے دو“ بھارت میں قائم نیوزی لینڈ کے ہائی کمیشن کی ٹوئٹر پر اپیل، ہنگامہ برپا ہو گیا

datetime 2  مئی‬‮  2021 |

نئی دلی (این این آئی) کوئی ہمیں آکسیجن سلنڈر دے دو، بھارت میں قائم نیوزی لینڈ کے ہائی کمیشن کی طرف سے ٹوئٹر پر آکسیجن سلنڈر مانگنے پر بھارت میں ہنگامہ برپا ہو گیا، بھارت میں نیوزی لینڈ ہائی کمیشن نے ٹوئٹر پر آکسیجن سلینڈر کی اپیل کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی ہسپتالوں میں گنجائش اور آکسیجن نہ ملنے

کے باعث اموات میں اضافہ ہونے لگا جس کے بعد نئی دہلی میں نیوزی لینڈ کے ہائی کمیشن کو آکسیجن کی ضرورت پڑی تو ٹوئٹر پر اپیل ڈال دی۔پہلے بھارتی عوام نے اسے بھارت پر طنز سمجھا، پھر ایک این جی او آکسیجن سلنڈر لے کر ہائی کمیشن پہنچی اور ٹوئٹر پر ہی نیوزی لینڈ ہائی کمیشن سے کہا کہ وہ آکسیجن لے آئے ہیں دروازہ کھولیں جس کے بعد ہائی کمیشن کے دروازے کھولے گئے اور انہوں نے آکسیجن سلنڈر وصول کرلیا اور اس مدد پر نیوزی لینڈ کے ہائی کمیشن نے متعلقہ این جی او کا شکریہ بھی ادا کیا۔بعد ازاں ہائی کمیشن کی جانب سے سابقہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا گیا اور ایک اور ٹوئٹ کی گئی جس میں وضاحت کے ساتھ معذرت بھی کی گئی۔نیوزی لینڈ ہائی کمیشن کا کہنا تھا کہ ہم ہنگامی طور پر آکسیجن سلنڈر حاصل کرنے کے لیے تمام ذرائع استعمال کررہے تھے اور اس دوران ہماری ٹوئٹ کا غلط مطلب سمجھا گیا جس پر ہم معذرت خواہ ہیں۔  کوئی ہمیں آکسیجن سلنڈر دے دو، بھارت میں قائم نیوزی لینڈ کے ہائی کمیشن کی طرف سے ٹوئٹر پر آکسیجن سلنڈر مانگنے پر بھارت میں ہنگامہ برپا ہو گیا، بھارت میں نیوزی لینڈ ہائی کمیشن نے ٹوئٹر پر آکسیجن سلینڈر کی اپیل کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…