جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی کورونا چین بھی پہنچ گیا صورتحال بگڑنے کا خدشہ،ہائی الرٹ جاری

datetime 1  مئی‬‮  2021 |

بیجنگ،نئی دہلی(این این آئی، آن لائن )چین میں کورونا کی نئی قسم کی موجودگی کی تصدیق کے بعد حکومت نے ہائی الرٹ جاری کر دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چینی حکام نے دعوی کیا کہ کورونا کی بی 1617 قسم وہاں بھی سامنے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے آنے والے افراد میں یہ قسم پائی جانے کے بعد ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

کورونا کی یہ قسم سب سے پہلے انڈیا میں سامنے آئی تھی۔ سائنس دان سوچ رہے ہیں کہ کیا انڈیا میں وائرس کی اس قسم سے کورونا کی دوسری لہر میں زیادہ خطرناک ثابت ہوئی۔دوسری جانب بھارت میں کورونا سے ایک ہی روز میں مزید 4 لاکھ سے زائد کیسز سامنے آگئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں کورونا انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر چکا ہے اور وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔بھارت میں کرونا مریضوں کا ہر روز ایک نیا ریکارڈ بن رہا ہے اور اب ایک روز میں بھارت میں کورونا مریضوں کی تعداد چار لاکھ سے زائد سامنے آئی ہے جو یومیہ دنیا بھر کا ایک نیا ریکارڈ ہے۔بھارتی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے چار لاکھ ایک ہزار 993 نئے مریض سامنے آئے ہیں اس دوران 3 ہزار 523 اموات ہوئی ہیں جبکہ 2 لاکھ 99 ہزار 988 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔بھارت کے کئی حصوں میں آکسیجن کی زبردست قلت دکھائی دے رہی ہے دہلی

میں آکسیجن کے لیے مریضوں کے رشتہ دار ادھر سے ادھر دھکے کھا رہے ہیں اور کئی تنطیموں نے مفت آکسیجن فراہمی کے لیے انتظامت کیے ہیں جن میں دہلی کے ایک گردوارہ نے آکسیجن لنگربھی شروع کر دیا ہے جہاں سے مستحق مریضوں کو مفت آکسیجن سلنڈر فراہم کیا جا رہا ہے۔

کورونا کیسز میں اضافے کی وجہ سے بھارتی عوام حکومت کے خلاف سخت مشتعل ہے جبکہ ریاستی اور مرکزی دونوں حکومتوں کو کچھ نہ کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی ویکسینیش مہم کے سلسلہ میں کہا ہے کہ ابھی حکومت کے پاس ویکسین دستیاب نہیں ہے اس لیے لوگ ویکسینیشن مراکز پر لائن نہ لگائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…