جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

بھارت میں کورونا کی شدت ”مودی استعفیٰ دو”کا مطالبہ زور پکڑگیا سوشل میڈیا پر ”مودی استعفیٰ دو ” ٹرینڈ کرنے لگا

datetime 1  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)سوشل میڈیا پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے یہ مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوں کیونکہ وہ کورونا میں شدت کے دوران لوگوں کی جانوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہے ہیں۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارت میں کوروناوبا کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان سوشل میڈیا پر ”مودی استعفیٰ دو ” ٹرینڈ

کررہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نریندر مودی کو بھارت بھر میں کورنا کی دوسری تباہ کن لہر سے نمٹنے میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔انٹرنیٹ صارفین نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹوں میں کہا ہے کہ کورونابحران کے دوران بھارتی حکومت کا آمرانہ رویہ واضح ہوتا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی کو مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والے سوشل میڈیا مواد کو بی جے پی بلاک کرکے اپنی نااہلی کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔یاد رہے کہ فیس بک نے بھارتی حکومت پر کڑی تنقید اور مودی سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر مشتمل مواد بلاک کر دیاہے جبکہ بھارتی حکومت کی ہدایت پر ٹویٹر نے بھی اس حوالے سے متعدد پوسٹس ہٹا دیں ۔ پوسٹوں میں کورونا وبا سے نمٹنے میں ناکامی پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔عالمی ذرائع ابلاغ بھی کورونا وبا سے نمٹنے میں ناکامی پر نریندر مودی کی ملامت کر رہا ہے۔ فرانسیسی اخبار” لی مونڈے ”Le Monde نے مودی کے تکبر کو بھارت میں کورونا میںشدت کا ذمہ دار قرار

دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارتیوں میں ہرگزرتے روز کے ساتھ یہ تاثیر واضح ہوتا جا رہا ہے کہ مودی نے انہیں ناکام کر دیا ہے۔ ایک آسٹریلیائی روزنامے نے بھارت میں کورونا وائرس کی دوسری تباہ کن لہر کا ذمہ دار بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے غلط اقدامات اور اور خوش فہمی

کو قرار دیا ہے۔روزنامہ لکھتا ہے کہ ماہرین صحت کے متواتر انتباہ اور بھارت میں آکسیجن اور ویکسین کی بڑھتی ہوئی کمی کے باوجود بی جے پی حکومت نے کمبھ میل جیسے بڑے مذہبی اجتماع کی اجازت دی اور اسے مسلسل جاری رکھا جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے خود انتخابی

جلسوں کی سر براہی کی جن میں لاکھوں افراد بغیر ماسک کے شریک تھے۔ایک ایسے وقت میں جب وسرے ممالک کورونا کی وجہ سے بڑے بڑے اجتماعات اور تقریات منسوخ کررہے ہیں مودی حکومت نے سب سے بڑے ہندو اجتماع کمبھ میلے کی اجازت دی اور اب وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں امرناتھ یاترا کے انعقاد پر تلی ہوئی ہے۔بھارت میں یہ مطالبہ بڑھ رہا ہے کہ مودی حکومت کو ملک میں کورونا کی تباہی پھیلانے کے لئے جوابدہ ہونا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…