جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایک سال کے اندرکورونا ویکسین کی کتنی ڈوزوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے؟ امریکی دواساز کمپنی فائزر نےبتا دیا

datetime 18  اپریل‬‮  2021 |

نیویارک ٗا سلام آباد(این این آئی)امریکی دواساز کمپنی فائزر نے کہا ہے کہ ایک سال کے اندرکورونا ویکسین کی تیسری ڈوز لگانے کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔فائزرکمپنی کے سربراہ کے مطابق عوام کو ممکنہ طور پر فائز ر کورونا ویکسین کی 6 سے 12 ماہ کے اندر ایک اور ڈوز لگوانی پڑ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا ویکسین کی سالانہ بنیاد پر ڈوز لگانے پر بھی تحقیق کی جارہی ہے۔

سربراہ فائزر کے مطابق کورونا ویکسین کی ڈوز لگوانے سے متعلق کورونا کی نئی اقسام اہم کردارادا کریں گی۔رپورٹ کے مطابق تحقیق کاروں کو فی الحال اندازہ نہیں ہے کہ کوروناویکسین کی دو خوراکیں وائرس کے خلاف کب تک تحفظ فراہم کرسکیں گی۔خیال رہے کہ امریکی دواساز ادارے فائزر نے جرمن کمپنی بائیو این ٹیک کے اشتراک سے کورونا ویکسین بنائی ہے جس کا دنیا کے مختلف ممالک میں استعمال جاری ہے، فی الحال اس ویکسین کی 2 ڈوز لگائی جارہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ ویکسین علامات والے کورونا مریضوں میں 97 فیصد اور بغیر علامات والے مریضوں میں 92 فیصد تک مؤثر ثابت ہوئی ہے۔دوسری جانب گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 30 ہیلتھ کیئر ورکرز عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہوگئے جس کے بعد کورونا وائرس کا شکار ہونے والے ہیلتھ کیئر ورکرز کی مجموعی تعداد 15 ہزار 551 ہوگئی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں 658 ہیلتھ کیئر ورکرز کورونا وائرس کا شکار ہیں۔این سی او سی کی رپورٹ کے مطابق ملک میں کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے ہیلتھ کیئر ورکرز کی

تعداد 14 ہزار 743 ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہیلتھ کیئر ورکرز سب سے زیادہ سندھ میں متاثر ہوئے، سندھ میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ہیلتھ کیئر ورکرز کی تعداد 5 ہزار 577 پہنچ گئی۔این سی او سی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اب تک مجموعی طور پر 150 ہیلتھ کیئر ورکرز جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…