جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

روس کیخلاف امریکی پابندیوں میں پاکستانی افراد، کمپنیاں بھی شامل امریکہ کی جانب سے جاری سرکاری بیان میں تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 17  اپریل‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)روس کے مبینہ سائبر جرائم میں ملوث ہونے پر امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے پابندی کی زد میں آنے والے 32 افراد اور کمپنیوں میں سے 10 کا تعلق کراچی اور لاہور سے ہے۔غیرملکی خبررساں ادرے کے مطابق یہ بات امریکا کے سرکاری بیان میں سامنے آئی۔جو بائیڈن نے روس کے 10 سفارتکاروں کو ملک بدر کردیا تھا اور

2020 کے صدارتی انتخاب میں مداخلت اور امریکی وفاقی ایجنسیوں کی بڑی سائبر ہیکنگ کے جواب میں تقریبا تین درجن افراد اور کمپنیوں پر پابندی عائد کردی تھی۔ امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں ان افراد اور کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں پاکستانی افراد بھی شامل تھے۔ان میں لاہور سے تعلق رکھنے والے شہزاد احمد عرف شہزاد امین بھی شامل ہیں جن پر 2018 کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے ذریعے امریکی انتخاب میں غیر ملکی مداخلت پر مخصوص پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔کراچی کے سید جوہر حسنین، محمد خضر حیات عرف حیات جعفری، رضا محسن عرف امیری، مجتبی علی رضا عرف لیلانی اور سید علی رضا عرف زیدی پر بھی امریکی انتخاب میں مداخلت کا الزام عائد کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ یہ تمام افراد متعدد آئی ٹی کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو بھی جانتے ہیں۔پابندی کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں سے ایک کراچی کی فریش ایئر فارم ہاس ہے جس سے

متعلق امریکی محکمہ خزانہ نے دعوی کیا کہ اس کا تعلق رضا محسن اور مجتبی علی رضا سے ہے۔اسی طرح کمپنی لائیک وائز، دکان نمبر 5، جمشید کوارٹرز، کراچی کا تعلق بھی رضا، محسن اور مجتبی علی رضا سے بتایا گیا۔پابندی کی زد میں آنے والی تیسری کمپنی ایم کے سوفٹ ٹیک

، 631 سی، چھٹی منزل، مشرق سینٹر، اسٹیڈیم روڈ، کراچی ہے اور اس کا تعلق بھی رضا، محسن اور مجتبی علی رضا سے ہے۔کراچی کی سیکنڈ آئی سولوشن عرف فارورڈرز کمپنی کی صرف ویب سائٹ ہے اور ای میل ایڈریس ہیں۔امریکی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا، روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو ہدف بنا کر پابندیوں کا دوسرا مرحلہ زیادہ مشکل اور پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…