ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

انڈونیشیا میں خوفناک زلزلے نے ہر طرف تباہی مچا دی 1300سے زائد عمارتیں زمین بوس ، ہلاکتیں

datetime 12  اپریل‬‮  2021 |

جکارتہ(مانیٹرنگ ڈیسک )انڈویشیا کے جزیرے میں 6.1 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عمارتیں زمیں بوس ہوئیں جبکہ ملبے تلے دب کر اب تک 8 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں دو روز قبل شدید زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق 1300 سے زائد عمارتیں اور

مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے۔نجی ٹی وی اے آر وائی کے رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میڈیا رپورٹ کے مطابق زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان بالی کے سیاحتی علاقے میں ہوا، جہاں ایک ہزار سے زائد گھر اور عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔انڈونیشیا کے محکمہ صحت نے اب تک 8 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق سیکڑوں شہری لاپتہ ہیں۔حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ متعدد شہری ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جن کے بچنے کی امید بہت کم ہے کیونکہ بڑی تعداد میں عمارتیں منہدم ہونے کی وجہ سے ریسکیو کاموں میں بہت زیادہ دشواریوں کا سامنا ہے۔ریسکیو ادارے کے مطابق سیکڑوں افراد لاپتہ ہیں، امدادی کاموں کے درمیان لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے ہوسکتا ہے۔ حکومت نے مذکورہ علاقے میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے آرمی کو بھی ریسکیو کاموں کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز جاوا کا مشرقی ساحل اور گہرائی دس کلومیٹر تھی۔ مقامی ماہرین کے مطابق زلزلے کا مرکز ملنگ شہر سے 67 کلومیٹر دور تھا، اسی وجہ سے بالی میں بہت زیادہ تباہی ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…