انڈونیشیا میں خوفناک زلزلے نے ہر طرف تباہی مچا دی 1300سے زائد عمارتیں زمین بوس ، ہلاکتیں

  پیر‬‮ 12 اپریل‬‮ 2021  |  12:20

جکارتہ(مانیٹرنگ ڈیسک )انڈویشیا کے جزیرے میں 6.1 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عمارتیں زمیں بوس ہوئیں جبکہ ملبے تلے دب کر اب تک 8 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں دو روز قبل شدید زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق 1300 سے زائد عمارتیں اورمکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے۔نجی ٹی وی اے آر وائی کے رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میڈیا رپورٹ کے مطابق زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان بالی کے سیاحتی علاقے میں ہوا، جہاں ایک ہزار سے زائد گھر


اور عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔انڈونیشیا کے محکمہ صحت نے اب تک 8 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق سیکڑوں شہری لاپتہ ہیں۔حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ متعدد شہری ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جن کے بچنے کی امید بہت کم ہے کیونکہ بڑی تعداد میں عمارتیں منہدم ہونے کی وجہ سے ریسکیو کاموں میں بہت زیادہ دشواریوں کا سامنا ہے۔ریسکیو ادارے کے مطابق سیکڑوں افراد لاپتہ ہیں، امدادی کاموں کے درمیان لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے ہوسکتا ہے۔ حکومت نے مذکورہ علاقے میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے آرمی کو بھی ریسکیو کاموں کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز جاوا کا مشرقی ساحل اور گہرائی دس کلومیٹر تھی۔ مقامی ماہرین کے مطابق زلزلے کا مرکز ملنگ شہر سے 67 کلومیٹر دور تھا، اسی وجہ سے بالی میں بہت زیادہ تباہی ہوئی۔


زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎