جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

مریضوں کو کرونا ویکسین لگانے کے بجائے کتے کاٹے کی ویکسین لگا دی گئی ، جانتے ہیں پھر مریضوں کا کیا بنا؟

datetime 11  اپریل‬‮  2021 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی ریاست اترپردیش میں محکمہ صحت کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے تین خواتین کو کرونا ویکسین کے بجائے سگ گزیدگی کے انجکشن لگا دیے گئے۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ریاست اترپردیش میں محکمہ صحت سے وابستہ ملازمین نے تین

معمر خواتین کو کرونا ویکسین کے بجائے سگ گزیدگی کے انجکشن لگا دیے۔رپورٹ کے مطابق ڈیوٹی پر تعینات ہیلتھ ورکرز نے ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر خواتین کو اینٹی ریبیرز کا انجیکشن لگا دیا۔ریاست اترپردیش کے علاقے سرواگیان کی رہائشی 70 سالہ سروج، ریلوے منڈی کی رہائشی 72 سالہ انار کلی اور 60 سالہ ستیہ وتی جمعرات کے روز کرونا ویکسین لگوانے کے لیے سرکاری اسپتال پہنچی تھیں۔وہاں پر موجود ہیلتھ ورکر نے میڈیکل اسٹور سرنج منگوائیں اور تینوں کو سگ گزیدگی کا ٹیکہ لگا دیا، جس کے بعد سروج نامی خاتون کو چکر آنے لگے اور گھبراہٹ ہونے لگی جس کی وجہ سے ان کی طبیعت بگڑ گئی۔سروج کے اہل خانہ انہیں نجی اسپتال لے کر پہنچی جہاں ڈاکٹر کو صورت حال سے آگاہ کیا تو اس نے او پی ڈی کی پرچی دیکھی۔ڈاکٹر نے انکشاف کیا کہ ہیلتھ ورکر نے خاتون کو اینٹی ریبیز کا انجکشن لگائے، بعد ازاں وہ دو خواتین بھی ڈاکٹر کے پاس پہنچیں تو معلوم ہوا کہ انہیں بھی کرونا کی جگہ سگ گزیدگی کا انجکشن

لگایا گیا ہے۔متاثرین نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے شکایت کرکے غلط ویکسین لگانے والے ہیلتھ ورکر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت میں افرا تفری پھیل گئی۔رپورٹ کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے محکمہ صحت نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو متاثرہ خواتین کے بیانات قلم بند کرے گی اور پھر قصور وار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…