جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مصر جج نے خود کو ہی سزا سنادی

datetime 9  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )مصر کے جج نے خود کو ہی سزا سنا دی ۔ مصر میں ایک مقامی عدالت کے جج نے اپنی غلطی پر خود کو سزا کا مستحق قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنا دیا، عدالت میں موجود لوگ اس اقدام پر حیران رہ گئے۔نجی ٹی وی اے آر وائی کے مطابق دوسروں کے خلاف کیسز کے فیصلے سنانا تو ججوں کا کام ہے مگر کوئی جج اپنے ہی خلاف فیصلہ سناتے ہوئ

ے خود کو جرمانہ کی سزا سنائے یہ حیران کن ہے مگر مصر میں ایک عدالت کے جج نے خود کو سزا دے کر سب کو حیران کر دیا۔گلف نیوز کے مطابق ملک کی عدالتی تاریخ میں ‌یہ اپنی نوعیت کا انوکھا ترین واقعہ ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ اسٹیٹ کونسل کے وائس چیئرمین جسٹس محسن کلوب ایک مقدمے کی سماعت کررہے تھے کہ اچانک ان کے موبائل فون کی گھنٹی بج اٹھی۔اسوان میں قائم انتظامی عدالت کے جج نے اپنی اس غلطی پر خود احتسابی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے موبائل فون کی گھنٹی بجنے پر خود پر پانچ سو مصری پاؤنڈ جرمانہ عائد کردیا۔انہوں نے کہا کہ ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ان کے موبائل فون کی گھنٹی بجی جس کے نتیجے میں ان کی توجہ اس مقدمہ سے ہٹ گئی تھی جس پر میں نے فوراً خود کو اس کا قصور وار قرار دیتے ہوئے پانچ سو پاؤنڈ کا جرمانہ کردیا۔جسٹس محسن کلوب کے اس اقدام پر دوسرے جج صاحبان، وکلاء اور عام شہری بھی حیران رہ گئے کہ ایک جج مقدمات کی سماعت میں اس حد تک سنجیدہ ہے کہ اپنے موبائل فون کی گھنٹی بجنے پر خود ہی کو سزا وار قرار دیتا ہے۔خیال رہے کہ جسٹس کلوب دوسرے جج حضرات اور وکلا کو مقدمات کی سماعت کے دوران اپنے موبائل فون بند رکھنے کی اکثر تاکید کرتے رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…