جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

یور آنر کیوں کہا، چیف جسٹس وکیل پر برہم ،حیرت انگیز قدم اٹھا لیا

datetime 27  فروری‬‮  2021 |

نئی دہلی (این این آئی )بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے عرضی گزار سے کہا ہے کہ چونکہ بینچ کو غلط لقب سے مخاطب کیا گیا اس لیے سماعت ملتوی کی جاتی ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس اے بوڈے کی سربراہی والی ایک بینچ نے غیر مناسب طریقے سے عدالت عظمی کو مخاطب

کرنے مدعی کو متنبہ کیا اور کہا کہ غیر مناسب القابات سے گریز کیا جائے۔ بینچ نے اس بات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور سماعت یہ کہہ کر ملتوی کر دی گئی کہ پہلے اچھی طرح سے تیاری کی جائے جس کے بعد سماعت ہوگی۔اپنے کیس کی پیروی کرتے ہوئے ایک وکیل نے جب عدالت کو یور آنر(عزت ماب)کے الفاظ سے مخاطب کیا تو چیف جسٹس نے کہاکہ آپ ہمیں یور آنر جیسے غلط الفاظ سے مخاطب نہ کریں، کیونکہ یہ امریکا کی سپریم کورٹ نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ جب آپ ہمیں یور آنر کہتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ آپ کے ذہن میں امریکی سپریم کورٹ ہے۔ جج صاحبان کا کہنا تھا کہ یور آنر جیسے الفاظ امریکی سپریم کورٹ میں اور بھارت کی مجسٹریٹ سطح کی عدالتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔اس پر مذکورہ وکیل نے فوری طور معذرت پیش کی اور کہا کہ پھر وہ عدالت عظمی کو یور لارڈ شپ کہہ کر پکاریں گے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا، کچھ بھی ہو، لیکن غیر مناسب القابات سے قطعی مخاطب نہ کریں۔ اس کے بعد بینچ نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ آئندہ سپریم کورٹ میں حاضر ہونے سے پہلے پوری طرح تیاری کر کے آئیں اور اس کے ساتھ سماعت چار ہفتوں کی لیے ملتوی کر دی گئی۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اس بارے میں خصوصی ہدایات جاری کرے تاکہ عدالتوں کا نظام بہتر ہو سکے اور برسوں سے التوا کے شکار لاکھوں مقدمات پر فیصلے ہوسکیں۔ مقدمے کی پیری کے لیے وہ خود ہی پیش ہوئے تھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…