جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں شکار کے ضوابط کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کا اعلان

datetime 20  فروری‬‮  2021 |

ریاض (این این آئی )سعودی عرب کی وزارت ماحولیات، پانی وزراعت نے مملکت میں تحفظ ماحولیات کے آرٹیکل 48 کے تحت شاہی فرمان 165 اور کابینہ کے فیصلہ نمبر129 کے مطابق جانوروں کے شکار کے وضع کردہ اصولوں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانوں کا اعلان کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق وزارت ماحولیات کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ

جنگلی حیات بالخصوص معدومیت کے خطرے سے دوچار جانداروں کا تحفظ ہماری پہلی ترجیح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اندھا دھند اور ظالمانہ شکار کی روک تھام، جانداروں کے شرکار کی حد مقرر کرنے، شکاریوں کو شکار کا شوق پورا کرنے میں انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنے اور شکار کے میدان میں سرکایہ ماری کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت نے شکار کے ضوابط کی خلاف ورزی، ممنوعہ جانوروں کو شکار کرنے، ممنوعہ وقت میں شکار کرنے، بغیر لائسنس کے شکار کرنے، شکار کے لیے غیر مجاز طریقوں کے استعمال اور دیگر ضوابط کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے مقرر کیے گئے ہیں۔وزارت ماحولیات کی طرف سے جرمانوں کی جاری کردہ فہرست میں کہا گیا ہے کہ بغیر لائنسنس کے شکار کرنے پر 10 ہزار ریال جرمانہ کیا جائے گا۔ ممنوعہ علاقے میں شکار پر 5 ہزار، ممنوعہ موسم میں شکار پر 5 ہزار، شکار کے دوران لائسنس کا استعمال نہ کرنے پر 10 ہزار ریال اور پرندوں کے گھونسلوں اور انڈوں کو بتاہ کرنے اور ان کی نسلی کشی جیسے اقدامات پر 10 لاکھ ریال جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔اسی طرح عربی ہرن کے شکار پر 90 ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔ سیہ پر 70 ہزار ریال، افریقی بجو کے شکار پر80  ہزار ریال،عرب بھیڑیا اور گیدڑ کے شکار پر 80 ہزار ریال، عربی چیتے پر 4 لاکھ ریال، عسیری فاختہ کے شکار پر ایک لاکھ ریال، ابو منچل کے شکار پر 2 لاکھ ریال، بڑی جسامت اور لمبی دم والی چھپکلی کے شکار پر تین ہزار ریال اور جنگی خرکوش کے شکار پر 18 ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…