جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

خلیجی ریاستوں سے معاہدے کے بعد اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں مزید یہودی بستیوں کی منظوری دیدی

datetime 19  جنوری‬‮  2021 |

برسلز /تل ابیب (این این آئی)اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 780 نئے گھروں کی تعمیر کی منظوری دے دی۔ فلسطینی انتظامیہ اور یورپی یونین نے فیصلے کی مذمت کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر پر نظر رکھنے والے ادارے پیس ناکا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام نے

غرب اردن کے علاقے میں مزید مکانات کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دی۔اسرائیلی وزیر اعظم بینجیمن نتن یاہو نے گزشتہ ہفتے ان نئی تعمیرات کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ روز روز ایک سرکاری کمیٹی نے365مکانات کی تعمیر کی حتمی توثیق کر دی جبکہ مزید 415 نئے مکانات کی تعمیر کے منصوبے کی ابتدائی منظوری دے دی۔ تعمیرات پر نظر رکھنے والے نگراں ادارے پیس ناکا کہنا تھا کہ جن مکانات کی تعمیر کو منظور کیا گیا ہے ان میں نوے فیصد گھر مغربی کنارے کے کافی اندر اس جگہ پر تعمیر ہوں گے جسے فلسطینی حکام اپنی آزاد ریاست کا اہم مرکزی حصہ بتاتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت اس سے قبل ایسے ہی غیر قانونی مقامات پر بنے 200 مکانات کو قانونی قرار دے چکی ہے۔ پیس نا کا کہنا تھاکہ بستیاں بسانے سے نہ صرف فلسطینیوں کے ساتھ طویل المعیاد تنازعات کے خاتمے کا امکان ختم ہوجائے گا، بلکہ اس سے مختصر وقت کے لیے اسرائیل اور بائیڈن انتظامیہ کے درمیان ٹکرا کی بھی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔پیس نا کے مطابق ٹرمپ کے چار سالہ دور اقتدار میں اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں 27 ہزار نئے مکانات کی تعمیر کو منظوری دی جو اوباما انتظامیہ کی دوسری معیاد سے تقریبا ڈھائی گنا زیادہ ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے بستیاں بسانے کے ان توسیعی منصوبوں کا نتیجہ یہ ہے کہ اس

وقت تقریبا ساڑھے چار لاکھ یہودی فلسطینیوں کے مغربی کنارے کی زمین پرآباد ہوچکے ہیں۔ اس علاقے میں تقریبا 28 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔فلسطینیوں کا کہناتھا کہ کہ مغربی کنارے کا پورا علاقہ ان کا ہے جس پر اسرائیل نے سن 1967 کی جنگ کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔ اس علاقے میں اسرائیلی آبادی بڑھنے کے ساتھ ہی ان کی آزاد ریاست کا

خواب مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس کے ایک ترجمان نے ان تعمیرات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ نو منتخب صدر جو بائیڈن مستقبل میں اگر امن مذاکرات بحال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، تو اسرائیل اسے مشکل ترین بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔یورپی یونین نے بھی اسرائیل کے نئے فیصلے پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی ہے کہ یہ عالمی قوانین کے برعکس ہے اور اس سے دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید دھچکا لگے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…