جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ارنب گو سوامی اسکینڈل نے بھارت میں تہلکہ مچادیا، چیٹ گیٹ کا نام دیکر انڈیا میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا

datetime 18  جنوری‬‮  2021 |

نئی دہلی (آن لائن) بھارت میں متنازع اینکر ارنب گوسوامی اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ہنگامہ مچ گیا ہے اور اسے چیٹ گیٹ کا نام دیا گیا ہے۔کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ارنب گوسوامی معاملے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ٹی وی میزبان اور ری پبلک میڈیا

نیٹ ورک کے ایڈیٹر اِن چیف ارنب گوسوامی کی اپنے ساتھی صحافی اور براڈکاسٹ آڈیئنس ریسرچ کونسل (بارک) کے سابق سی ای او پارتھو داس کے ساتھ واٹس ایپ چیٹ لیک ہوئی ہے جس سے انکشاف ہوا ہے کہ اسے بھارت کے بہت سے خفیہ رازوں کا پہلے سے علم تھا اور پلوامہ حملے سے وہ اپنے چینل کی رینکنگ بڑھانے کی باتیں کررہا تھا۔اس چیٹ سے یہ سنسنی خیز انکشاف بھی ہوا کہ ارنب گوسوامی بالاکوٹ پر بھارتی حملے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات سے پہلے سے ہی آگاہ تھا۔بھارت کے اندر ان انکشافات سے تہلکہ مچ گیا ہے اور لوگ سوال اٹھارہے ہیں کہ ایک ٹی وی اینکر کو کس طرح ملکی رازوں اور حساس معاملات تک رسائی حاصل ہوگئی جسے اس نے اپنی رینکنگ بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے رہنماؤں نے بی جے پی حکومت سے معاملے کی مشترکہ پارلیمانی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریسی رہنما منیش تیواری نے کہا کہ اگر ارنب گوسوامی اسکینڈل میں سچائی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ 2019 کے عام انتخابات اور بالاکوٹ فضائی حملوں کے درمیان براہ راست تعلق ہے، کیا محض انتخابات جیتنے کے لیے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگایا جاسکتا ہے۔ سابق وزیر داخلہ پی چدم برم نے بھی کہا کہ اگر ایک صحافی

اور اس کے دوست کو بالاکوٹ حملے کا تین دن پہلے علم تھا تو اس بات کا کیا ضمانت ہے کہ ان کے ذرائع نے یہ خبر پاکستانی جاسوسوں کو نہیں بتائی ہوگی۔ششی تھارور نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ پڑتال کرنی چاہیے کہ ملکی دفاعی رازوں کو کس طرح تجارتی مقاصد کے لیے ٹی وی چینل کو فراہم کیا گیا جو کہہ رہا ہے کہ پلوامہ میں

40 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کو ہم بہترین انداز میں کیش کرائیں گے۔ادھر شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور دیگر جماعتوں نے بھی معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس کے ترجمان مہیش تاپسی نے کہا کہ یہ بات انتہائی افسوس ناک اور صدمے کا باعث ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات کو ٹی آر پی اور ریٹنگ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…