جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

ارنب گو سوامی اسکینڈل نے بھارت میں تہلکہ مچادیا، چیٹ گیٹ کا نام دیکر انڈیا میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا

datetime 18  جنوری‬‮  2021 |

نئی دہلی (آن لائن) بھارت میں متنازع اینکر ارنب گوسوامی اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ہنگامہ مچ گیا ہے اور اسے چیٹ گیٹ کا نام دیا گیا ہے۔کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ارنب گوسوامی معاملے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ٹی وی میزبان اور ری پبلک میڈیا

نیٹ ورک کے ایڈیٹر اِن چیف ارنب گوسوامی کی اپنے ساتھی صحافی اور براڈکاسٹ آڈیئنس ریسرچ کونسل (بارک) کے سابق سی ای او پارتھو داس کے ساتھ واٹس ایپ چیٹ لیک ہوئی ہے جس سے انکشاف ہوا ہے کہ اسے بھارت کے بہت سے خفیہ رازوں کا پہلے سے علم تھا اور پلوامہ حملے سے وہ اپنے چینل کی رینکنگ بڑھانے کی باتیں کررہا تھا۔اس چیٹ سے یہ سنسنی خیز انکشاف بھی ہوا کہ ارنب گوسوامی بالاکوٹ پر بھارتی حملے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات سے پہلے سے ہی آگاہ تھا۔بھارت کے اندر ان انکشافات سے تہلکہ مچ گیا ہے اور لوگ سوال اٹھارہے ہیں کہ ایک ٹی وی اینکر کو کس طرح ملکی رازوں اور حساس معاملات تک رسائی حاصل ہوگئی جسے اس نے اپنی رینکنگ بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے رہنماؤں نے بی جے پی حکومت سے معاملے کی مشترکہ پارلیمانی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریسی رہنما منیش تیواری نے کہا کہ اگر ارنب گوسوامی اسکینڈل میں سچائی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ 2019 کے عام انتخابات اور بالاکوٹ فضائی حملوں کے درمیان براہ راست تعلق ہے، کیا محض انتخابات جیتنے کے لیے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگایا جاسکتا ہے۔ سابق وزیر داخلہ پی چدم برم نے بھی کہا کہ اگر ایک صحافی

اور اس کے دوست کو بالاکوٹ حملے کا تین دن پہلے علم تھا تو اس بات کا کیا ضمانت ہے کہ ان کے ذرائع نے یہ خبر پاکستانی جاسوسوں کو نہیں بتائی ہوگی۔ششی تھارور نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ پڑتال کرنی چاہیے کہ ملکی دفاعی رازوں کو کس طرح تجارتی مقاصد کے لیے ٹی وی چینل کو فراہم کیا گیا جو کہہ رہا ہے کہ پلوامہ میں

40 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کو ہم بہترین انداز میں کیش کرائیں گے۔ادھر شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور دیگر جماعتوں نے بھی معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس کے ترجمان مہیش تاپسی نے کہا کہ یہ بات انتہائی افسوس ناک اور صدمے کا باعث ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات کو ٹی آر پی اور ریٹنگ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…