جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بارش کے بعد سعودی شہر تمیرکا جمالیاتی حسن سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا

datetime 16  دسمبر‬‮  2020 |

ریاض(این این آئی)گذشتہ سعودی عرب کے علاقے تمیرمیںموسلا دھار بارش کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ موسم مزید خوش گوار ہوگیا بلکہ بارش نے شہر کے جمالیاتی حسن میں مزید اضافہ کر دیا۔عرب ٹی وی کے مطابق ایک مقامی فوٹو گرافر فہد آل برغش نے بتایا کہ تمیر کا علاقہ دارالحکومت الریاض کے شمال مغرب میں 140 کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ ایک پرفضا مقام ہے۔

بارش نے شہر کے جمالیاتی حسن کو چار چاند لگا دئیے۔برغش نے شہر کے خوبصورت مناظر اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیے ہیں۔ یہ مناظر اپنی خوبصورت میں فن پاروں سے کم نہیں۔ فوٹو گرافر برغش نے کہا کہ اس نے بارش کے دوران شمالی تمیر کے الاعصل گھاٹی جو کہ ایک وسیع وادی کی مانند کی سیر کی۔ اس کا آغاز قرشع الشحمہ کے مقام سے ہوتا ہے اور 40 کلومیٹر طویل مسافت کے بعد نفوذ دلاھنا کیمقام پر اس وادی کا اختتام ہوتا ہے۔ اس کی چوڑائی ایک کلو میٹر ہے جب کہ بعض مقامات انتہائی تنگ ہیں اور دونوں طرف کے پہاڑوں کیدرمیان محض چند میٹر کا فاصلہ بچ جاتا ہے۔اس گھاٹی سے گذرتے ہوئے سعودی فوٹو گرافر نے اس مختلف مناظر کی تصاویر لیں جو بلا شبہ دیکھنے والوں کی نظروں کو خیرہ کر دینے والی ہیں۔خیال رہے کہ انتظامی طور پر تمیر المجمعہ گورنری میں واقع ہے جو الریاض کے علاقے میں واقع ہے۔ اسے تمیر کانام خود رو کھجوروں کی وجہ سے دیاگیا۔ یہاں پر بڑی تعداد میں کھجوروں کے ایسے درخت موجود ہیں جو کسی کی محنت کے بغیر خود پیدا ہوئے اور پھل بھی دیتے ہیں۔یہ مقام سطح سمندر سے بلند ہونے کی وجہ سے پرفضا سمجھا جاتا ہے مگر اس کی مٹی زراعت کے لیے انتہائی موزوں ہے اور یہاں مختلف اقسام کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ ‘تمیر’ شہرکو اس کی قدرتی خوبصورتی کی بدولت موسم بہار کا ‘دلہا’ بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں کئی ایک تفریحی مقامات ہیں جو سیرو سیاحت کے لیے سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…