جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایران نے ترکی کیساتھ ہاتھ ملا لیا، امریکہ کی نیندیں حرام

datetime 16  دسمبر‬‮  2020 |

تہران(این این آئی )ترکی پر امریکا کی عائد کردہ پابندیوں کے خلاف ایران نے مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ترکی پر روس سے ایس 400 میزائل شکن نظام خریدنے کو بنیاد بنا کر امریکا کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کی مذمت کی ہے۔

اپنے ٹوئٹ میں جواد ظریف نے کہا کہ امریکا کو دوسرے ممالک پر پابندیاں لگانے اور بین الاقوامی قوانین کی پامالی کی لت لگ چکی ہے۔ ہم امریکا کی جانب سے ترکی پر لگائی جانے والی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم ترکی کے عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔واضح رہے کہ امریکا نے روسی میزائل شکن سسٹم خریدنے پر گزشتہ روز ترکی وزارت دفاع کے متعلقہ شعبے کے حکام پر اقتصادی اور سفری پابندیاں عائد کی ہیں۔ مبصرین ان پابندیوں کو آرمینیا اور آذر بائیجان کی جنگ میں ترکی کے کردار اور عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ ہونے والے معاہدات پر مخالفانہ رویے کا نتیجہ بھی قرار دے رہے ہیں۔دل چسپ امر یہ ہے کہ ترک صدر طیب اردوان کے آذر بائیجان میں فتح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک نظم پڑھنے پر ایران کی جانب سے تند و تیز تبصرے کیے گئے تھے۔اس نظم میں آذری قوم کی آزادی اور خود مختاری کا حوالہ تھا، ایران کی جانب سے تاثر دیا گیا کہ اردوان نے اس کی آذری اقلیت کو

اکسانے کے لیے اس نظم کا انتخاب کیا۔ اس کے بعد ایران میں طیب اردوان پر شدید تنقید کی گئی اور نامناسب زبان بھی استعمال کی گئی جس پر ترکی کی جانب سے باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔ علاوہ ازیں شام سے متعلق پالیسی میں بھی دونوں ممالک میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ تاہم امریکی پابندیوں کے بعد ایران کی جانب سے ترکی کو خیر سگالی کا پیغام دیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…