جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس چھو کر بھی نہ گزرا رواں عمرہ سیزن کے دوران 40 لاکھ زائرین کی مسجد حرام میں آمد

datetime 15  دسمبر‬‮  2020 |

مکہ مکرمہ(این این آئی)الحرمین الشریفین کے انتظامی امور کے ذمہ دار ادارے حرمین پریزیڈینسی کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وبا پر قابو پانے کے بعد عمرہ سیزن کی بحالی کے بعد اب تک 40 لاکھ مسلمان مسجد حرام اور بیت اللہ کے دیدار کی سعادت حاصل کرچکے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ مسجد حرام میں 25 مقامات پر

تھرمو کیمرے نصب ہیں جن میں رواں عمرہ سیزن کے دوران چار ملین زائرین کا درجہ حرارت چیک کیا گیا جس کے بعد انہیں عمرہ اور مسجد حرام میں عبادت کی اجازت دی گئی۔الحرمین الشریفین کے وبائی تحفظ کے امور کے سربراہ حسن السویھری نے بتایا کہ مسجد حرام میں آنے والے زائرین کا درجہ حرارت اور بخار معلوم کرنے کے لیے 100 ملازمین کو پیشہ وارانہ بنیادوں پر کام کی تربیت دی گئی ہے۔ یہ تمام ملازمین مسجد حرام کے داخلی اور خارجی راستوں پر لگے کیمروں کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ تھرمو کیمروں کو بھی استعمال کرکے زائرین کی مدد کرتے ہیں۔مسجد حرام کی انتظامیہ کی طرف سے مسجد میں سینی ٹائزنگ کے لیے 20 بائیو کیر ماڈل سسٹم فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ آلات خشک بھاپ کا استعمال کرتا ہے تاکہ زمین پر کسی قسم کے جراثیم کا کوئیی سراغ باقی نہ رہے اور نمازیوں اور عازمین حج کی عبادت اور مناسک کی ادائی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ڈیوائس کی مدد سے ماحول دوست ہائپوکلورائڈ بی سی65کا اسپرے کیا جاتا ہے۔ یہ ایک خوشبو دار اسپرے ہے جسمانی طور پر کسی بھی طرح کا منفی اثر نہیں ڈالتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…