جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بنگلہ دیش میں مسجد میں قرآن کی توہین پر ایک شخص کو زندہ جلا دیا گیا

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

ڈھاکہ (این این آئی)بنگلہ دیش میں ایک مسجد میں ایک شخص کو مبینہ طور پر قرآن کی توہین کرنے پر زندہ جلا دیا گیا۔ یہ واقعہ بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا سے تین سو کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ضلع لال منیر ہٹ میں پیش آیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایاکہ لال منیر ہٹ کے ایک گائوں بری ماری میں دو افراد ایک مسجد میں داخل ہوئے اور یہ عسکریت

پسندوں کی جانب سے مسجد میں مشتبہ طور پر چھپائے گئے ہتھیاروں کی تلاش میں تھے۔ بتایا گیا کہ ان افراد نے امام مسجد سے بات چیت کے بعد مسجد میں تلاشی کی کوشش کی، جس دوران اس الماری کی تلاشی کی کوشش بھی کی، جس میں قرآن اور احادیث رکھی گئی تھیں۔مقامی پولیس افسر عابدہ سلطانہ کے مطابق اس تلاشی کو مقامی امام نے قرآن کی توہین گردانا۔ بتایا گیاکہ ان دو افراد کو ابتدا میں مقامی افراد نے پکڑ کر ایک کمرے میں بند کر دیا تھا تاہم رات کو اس جگہ پر کئی سو افراد جمع ہو گئے اور ان میں سے ایک شخص کو بری طرح پیٹتے ہوئے ایک قریبی مقام پر لے گئے اور پھر زندہ جلا دیا۔مقامی حکومتی عہدیدار ابو نواز نشاط کے مطابق، پولیس کو جائے واقعہ سے خاکستر لاش ملی ہے۔ اس موقع پر مقامی افراد اللہ اکبر کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ واضح رہے کہ اس واقعے کی فوٹیج کچھ ہی دیر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ۔بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والے شخص قریبی علاقے رنگ پور میں ایک کالج میں لائبریرین کی نوکری ختم ہو جانے کے بعد شدید نفسیاتی مسائل سے دوچار تھا۔پولیس کو اس مسجد سے کوئی ہتھیار نہیں ملا جب کے دوسرے شخص کو پولیس نے اپنی حراست میں لے لیا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ بنگلہ دیش میں فقط افواہوں، توہم پرستی اور غلط خبروں کی بنیاد پر گزشتہ برس پچاس سے زائد افراد کو سڑکوں پر قتل کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…