جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

گستاخانہ خاکوں کے پیچھے میری حکومت کا ہاتھ نہیں، مسلمانوں کے شدید ردعمل کے بعد فرانسیسی صدر نے گھٹنے ٹیک دیے

datetime 31  اکتوبر‬‮  2020 |

پیرس (این این آئی)فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں سے متعلق ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پھیلایا گیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ میں گستاخانہ خاکوں کا حامی ہوں۔الجزیرہ ٹی وی کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو میں فرانسیسی صدر نے کہا وہ گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے مسلمانوں کے جذبات کو سمجھتے ہیں تاہم انہیں جاننا ہوگا کہ گستا خانہ خاکے

حکومتی منصوبہ نہیں اور نہ اسے سرکاری حمایت حاصل ہے۔انہوں نے کہاکہ میرے خیال سے اشتعال کی وجہ میرے حوالے سے منسوب جھوٹی باتیں ہے، گستاخانہ خاکوں سے متعلق میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پھیلایا گیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ جیسے میں اِن گستاخانہ خاکوں کا حامی ہوں۔میکرون کا کہنا تھا کہ گستاخانہ خاکے نجی صحافتی اداروں نے شائع کیے جو حکومتی اجارہ داری سے آزاد ہیں۔فرانسیسی صدر کا کہنا تھاکہ کچھ لوگ اسلامی تعلیمات کو غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں، اسلامی تعلیمات کی غلط تشریح کرکے، قتل وغارت، تشدد اور اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر جو چیز پھیلائی جارہی ہے وہ خود مسلمانوں کیلئے وبال جان بن چکی ہے، دہشتگردی کا خمیازہ بھگتنے والے 80فیصد لوگ مسلمان ہیں۔دوسری جانب کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی سب کا حق ہے تاہم یہ آزادی حد سے باہر نہیں ہونی چاہیے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متنازع فرانسیی جریدے چارلی ہیبڈو کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے سوال پر جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ہم ہمیشہ آزادی اظہار رائے کا دفاع کریں گے مگر اس کی ایک حد ہونی چاہیے، ہمیں دوسروں کیلئے احترام کے ساتھ کام کرناچاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ غیرضروری طورپرلوگوں کی دل آزاری نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنیالفاظ اور افعال کے

دوسروں پر اثرات کا علم ہونا چاہیے اور ایسی کوئی بات نہیں کہنی چاہیے جس سے ہمارے ساتھ رہنے والوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے اور خاص طور پر ایسے افراد جنہیں معاشرے میں بڑے پیمانے پر امتیازی سلوک کاسامنا ہے۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ان پیچیدہ مسائل پر ذمہ داری کیساتھ بحث کے لیے معاشرہ تیار ہے۔ کینیڈا کے عوام اس مشکل وقت میں فرانسیسی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…