متحدہ عرب امارات نے کس ملک کے شہریوں کو 90دن تک بغیر ویزہ قیام کرنے کی سہولت دیدی ، ویزے سے استثنی کا فیصلہ

  جمعہ‬‮ 23 اکتوبر‬‮ 2020  |  14:35

دبئی( آن لائن )متحدہ عرب امارات کے شہری 90 دن تک اسرائیل میں بغیر ویزہ قیام کر سکیں گے۔ ویزے سے استثنی کا فیصلہ منگل کو دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ ایک سمجھوتے کے تحت کیا گیا ہے۔ یو اے ای کے معاون وزیر برائے ثقافت اور پبلک ڈپلومیسی عمر سیف اور اسرائیل کی وزارت داخلہ کے تحت آبادی اور امیگریشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے دست خط کیے ہیں۔العربیہ کے مطابق دونوں ملکوں کے شہریوں کو ویزوں سے استثنا دینے کا فیصلہ دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کی خواہش کا عکاس ہے اوراس سے خطے میں تعاون کے


نئے مواقع پیدا ہوں گے۔متحدہ عرب امارات سے گذشتہ سوموارکو پہلا مسافر طیارہ اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کے بن گورین ہوائی اڈے پر اترا تھا۔یواے ای کی فضائی کمپنی اتحادائیرویز کی اس پرواز میں صرف عملہ کے ارکان سوار تھے اور یہ تل ابیب سے اسرائیلی سیاحوں کو یو اے ای سیروسیاحت کے لیے لایا تھا۔یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان ہفتے میں 28 پروازیں چلانے کے لیے منگل کے روز ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔ دونوں ملکوں نے گذشتہ جمعرات کو دہرے ٹیکسوں سے بچنے کے لیے بھی ابتدائی سمجھوتے پر دست خط کیے تھے۔اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور فروغ ہے۔یو اے ای نے 13 اگست کو اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے تاریخی امن معاہدے کا اعلان کیا تھا اور پھر اس کی روشنی میں 29 اگست کو ایک فرمان جاری کیا تھا ،اس کے تحت اسرائیل کے معاشی بائیکاٹ سے متعلق یو اے ای کے قانون کو منسوخ کردیا گیا تھا۔ امارات اور اسرائیل نے 15 ستمبر کو وائٹ ہاوس میں امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدہ ابراہیم پر دست خط کیے تھے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎