ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

آرمینین فوج میدان چھوڑ کر بھاگ نکلی، بھاگنے کی ویڈیو سامنے آگئی

datetime 20  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد /یروآن(این این آئی) آذربائیجان اور آرمینیا کے دوران نگورنوکاراباخ کے معاملے پر آذری فوج کے حملے کے بعد آرمینین افواج کے میدان چھوڑ کر بھاگنے کی ویڈیو سامنے آگئی۔پاکستان میں تعینات آذربائیجان کے سفیر علی علی زادہ نے

متنازع علاقے نگورنو کاراباخ سے متعلق ٹوئٹ کی۔میڈیارپورٹس کے مطابق علی علی زادہ نے آرمینیا کی جانب سے رہائشی علاقوں میں عام شہریوں پر میزائل حملوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ آرمینیا اپنے فوجیوں کو غیر قانونی طور پر مقبوضہ زمین پر بھیج رہا ہے۔علی علی زادہ نے مطالبہ کیا کہ آرمینیا فوری طور پر آذربائیجان کے مقبوضہ علاقوں سے اپنے فوجی واپس بلائے۔آذربائیجان کے سفیر نے اپنی ٹوئٹ میں ایک ویڈیو بھی شیئر کی اور بتایا کہ آذربائیجان کی فورس آرمینین افواج کا پیچھا کررہی ہیں۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آرمینیا کے فوجی لڑائی کے دوران آذربائیجان کے فوج کے حملے کے بعد پسپائی اختیار کرتے ہوئے بھاگ رہے ہیں۔واضح رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنو کاراباخ کے متنازع علاقے پر تین ہفتوں سے جنگ جاری ہے جس میں اب تک سیکڑوں فوجی مارے جاچکے ہیں جب کہ آرمینیا نے رہائشی علاقوں پر بھی میزائل حملے کیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…