جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس، 75 سالوں میں پہلی بار حیرت انگیز کام ہو گیا

  ہفتہ‬‮ 26 ستمبر‬‮ 2020  |  20:58

نیویارک (آن لائن) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس ہر سال ستمبر کے آخری ہفتے میں عالمی شخصیات کی آمد اور خطاب سے شروع ہوتا ہے۔عالمی رہنماؤں کی آمد سے قبل رکن ممالک کے وفود کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جن کے لئے ہوٹلز اعلی جدید ترین لیموزین گاڑیوں کے قافلے اور دیگر لوازمات کا اہتمام کیا جاتا ہے ان دنوں نیویارک اور گردونواح کے ہوٹلوں میں مکمل طورپر بک ہوجاتے ہیں ٹیکسی والوں کا کاروبار عروج پر پہنچ جاتا ہے نائٹ کلبوں اور مے خانوں کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں ہے پولیس اور سیکرٹ سروس کے دستے


تمام اہم مقامات پر پوزیشنیں سنبھال لیتے ہیں صدر امریکہ کی نیویارک آمد اور اقوام متحدہ سے خطاب کے وقت نیویارک ہائی الرٹ پر رہتا ہے ٹریفک جام کی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔مگر اس سال گذشتہ 75 سالوں کے برعکس پہلی مرتبہ کوئی بیرونی وفد نیویارک نہیں پہنچا تمام کاروائی ریموٹ ہورہی ہے نیویارک میں تعینات یو این میں متعلقہ ممالک کے نمائندے اس اجلاس میں نمائندگی کے لئے حصہ لیتے ہیں۔نیویارک کی سٹی انتظامیہ کو اس سال ریونیو کی مد میں ایک ارب ڈالرز سے زائد کی محرومی کا سامنا ہے ٹیکسیاں سڑکوں سے غائب ہیں ہوٹل بھوت بنگلے بنے ہوئے ہیں ائیرپورٹس طیاروں اور مسافروں کی شکلیں دیکھنے کو ترس گئے ہیں۔ایک وقت تھا۔عرب حکمرانوں کے طیارے عالی شان لیموزین گاڑیوں سے لدے ان ائیر پورٹوں پر لینڈ کرتے تھے اور کرنل قذافی تو اپنی خیمہ بستی جو عرب ثقافت کا آئینہ دار ہوتی تھی بسا لیتے تھے مگر نہ تو قذافی رہے نہ یاسر عرفات، پاکستان کے عمران خان کے اقوام متحدہ سے خطاب ذوالفقار علی بھٹو کی یاد دلاتے ہیں جنہوں نے کشمیر پر پاکستان کے دبنگ موقف کو دنیا بھر میں اجاگر کیا اور اسکی قیمت پاکستان نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی شکل میں ادا کی اب عمران خان کے فلسطینپر دلیرانہ موقف نے انہیں بھٹو جیسا عالمی لیڈر بنا دیا ہے اگر کورونا نہ ہوتا تو عالمی فورم پر عمران خان کی جو پذیرائی ہوتی وہ دنیا دیکھتی کہ پاکستان اب ایک بار پھر اسلامی اور تیسری دنیا کا حقیقی لیڈر بن کر قیادت کا مستحق ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎