پیر‬‮ ، 09 مارچ‬‮ 2026 

جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس، 75 سالوں میں پہلی بار حیرت انگیز کام ہو گیا

datetime 26  ستمبر‬‮  2020 |

نیویارک (آن لائن) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس ہر سال ستمبر کے آخری ہفتے میں عالمی شخصیات کی آمد اور خطاب سے شروع ہوتا ہے۔عالمی رہنماؤں کی آمد سے قبل رکن ممالک کے وفود کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جن کے لئے ہوٹلز اعلی جدید ترین لیموزین گاڑیوں کے قافلے اور دیگر لوازمات کا اہتمام کیا جاتا ہے ان دنوں نیویارک اور گردونواح کے ہوٹلوں میں مکمل طور

پر بک ہوجاتے ہیں ٹیکسی والوں کا کاروبار عروج پر پہنچ جاتا ہے نائٹ کلبوں اور مے خانوں کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں ہے پولیس اور سیکرٹ سروس کے دستے تمام اہم مقامات پر پوزیشنیں سنبھال لیتے ہیں صدر امریکہ کی نیویارک آمد اور اقوام متحدہ سے خطاب کے وقت نیویارک ہائی الرٹ پر رہتا ہے ٹریفک جام کی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔مگر اس سال گذشتہ 75 سالوں کے برعکس پہلی مرتبہ کوئی بیرونی وفد نیویارک نہیں پہنچا تمام کاروائی ریموٹ ہورہی ہے نیویارک میں تعینات یو این میں متعلقہ ممالک کے نمائندے اس اجلاس میں نمائندگی کے لئے حصہ لیتے ہیں۔نیویارک کی سٹی انتظامیہ کو اس سال ریونیو کی مد میں ایک ارب ڈالرز سے زائد کی محرومی کا سامنا ہے ٹیکسیاں سڑکوں سے غائب ہیں ہوٹل بھوت بنگلے بنے ہوئے ہیں ائیرپورٹس طیاروں اور مسافروں کی شکلیں دیکھنے کو ترس گئے ہیں۔ایک وقت تھا۔عرب حکمرانوں کے طیارے عالی شان لیموزین گاڑیوں سے لدے ان ائیر پورٹوں پر لینڈ کرتے تھے اور کرنل قذافی تو اپنی خیمہ بستی جو عرب ثقافت کا آئینہ دار ہوتی تھی بسا لیتے تھے مگر نہ تو قذافی رہے نہ یاسر عرفات، پاکستان کے عمران خان کے اقوام متحدہ سے خطاب ذوالفقار علی بھٹو کی یاد دلاتے ہیں جنہوں نے کشمیر پر پاکستان کے دبنگ موقف کو دنیا بھر میں اجاگر کیا اور اسکی قیمت پاکستان نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی شکل میں ادا کی اب عمران خان کے فلسطین

پر دلیرانہ موقف نے انہیں بھٹو جیسا عالمی لیڈر بنا دیا ہے اگر کورونا نہ ہوتا تو عالمی فورم پر عمران خان کی جو پذیرائی ہوتی وہ دنیا دیکھتی کہ پاکستان اب ایک بار پھر اسلامی اور تیسری دنیا کا حقیقی لیڈر بن کر قیادت کا مستحق ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…