بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس، 75 سالوں میں پہلی بار حیرت انگیز کام ہو گیا

datetime 26  ستمبر‬‮  2020 |

نیویارک (آن لائن) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس ہر سال ستمبر کے آخری ہفتے میں عالمی شخصیات کی آمد اور خطاب سے شروع ہوتا ہے۔عالمی رہنماؤں کی آمد سے قبل رکن ممالک کے وفود کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جن کے لئے ہوٹلز اعلی جدید ترین لیموزین گاڑیوں کے قافلے اور دیگر لوازمات کا اہتمام کیا جاتا ہے ان دنوں نیویارک اور گردونواح کے ہوٹلوں میں مکمل طور

پر بک ہوجاتے ہیں ٹیکسی والوں کا کاروبار عروج پر پہنچ جاتا ہے نائٹ کلبوں اور مے خانوں کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں ہے پولیس اور سیکرٹ سروس کے دستے تمام اہم مقامات پر پوزیشنیں سنبھال لیتے ہیں صدر امریکہ کی نیویارک آمد اور اقوام متحدہ سے خطاب کے وقت نیویارک ہائی الرٹ پر رہتا ہے ٹریفک جام کی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔مگر اس سال گذشتہ 75 سالوں کے برعکس پہلی مرتبہ کوئی بیرونی وفد نیویارک نہیں پہنچا تمام کاروائی ریموٹ ہورہی ہے نیویارک میں تعینات یو این میں متعلقہ ممالک کے نمائندے اس اجلاس میں نمائندگی کے لئے حصہ لیتے ہیں۔نیویارک کی سٹی انتظامیہ کو اس سال ریونیو کی مد میں ایک ارب ڈالرز سے زائد کی محرومی کا سامنا ہے ٹیکسیاں سڑکوں سے غائب ہیں ہوٹل بھوت بنگلے بنے ہوئے ہیں ائیرپورٹس طیاروں اور مسافروں کی شکلیں دیکھنے کو ترس گئے ہیں۔ایک وقت تھا۔عرب حکمرانوں کے طیارے عالی شان لیموزین گاڑیوں سے لدے ان ائیر پورٹوں پر لینڈ کرتے تھے اور کرنل قذافی تو اپنی خیمہ بستی جو عرب ثقافت کا آئینہ دار ہوتی تھی بسا لیتے تھے مگر نہ تو قذافی رہے نہ یاسر عرفات، پاکستان کے عمران خان کے اقوام متحدہ سے خطاب ذوالفقار علی بھٹو کی یاد دلاتے ہیں جنہوں نے کشمیر پر پاکستان کے دبنگ موقف کو دنیا بھر میں اجاگر کیا اور اسکی قیمت پاکستان نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی شکل میں ادا کی اب عمران خان کے فلسطین

پر دلیرانہ موقف نے انہیں بھٹو جیسا عالمی لیڈر بنا دیا ہے اگر کورونا نہ ہوتا تو عالمی فورم پر عمران خان کی جو پذیرائی ہوتی وہ دنیا دیکھتی کہ پاکستان اب ایک بار پھر اسلامی اور تیسری دنیا کا حقیقی لیڈر بن کر قیادت کا مستحق ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…