متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین لاگو سخت سزائیں مقرر

  جمعرات‬‮ 24 ستمبر‬‮ 2020  |  18:04

ابوظبی ( آن لائن )متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظبی میں نئے ٹریفک قانون لاگو ہو گئے جن کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کا سامنا کرنا ہو گا۔ ابوظبی انٹیگریٹڈ ٹرانسپورٹ سنٹر (ITC) کی جانب سے نئے ٹریفک قوانین کا اعلان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ آئندہ سےکسی سڑک کے قریب کوئی تعمیراتی یا کھدائی کاکام کروانے سے پہلے ITC سے ٹریفک پرمٹ حاصل کرناپڑے گا۔یہ ٹریفک قوانین ریاست کے تمام علاقوں پر نافذ ہو گا۔ابوظبی میڈیا آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آئندہ کسی بھی مقام پر تعمیراتی یا کھدائی کام ITC سے پرمٹ کے


حصول کے بغیر شروع کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، ورنہ بھاری جرمانے سہنا ہوں گے۔یہ ٹریفک پرمٹ ایسی صورت میں حاصل کرنا ہو گا اگر کسی تعمیراتی کام یا کھدائی کے باعث سڑک سے گزرنے والوں کی سیفٹی کو خطرات ہوں، یا پھر ٹریفک کی روانی میں خلل پیدا ہو اور ٹریفک جام کی صورت حال بھی پیدا ہو جائے۔اس لیے آئندہ انفراسٹرکچر پراجیکٹس شروع کرنے سے پہلے پرمٹ حاصل کرنا ہو گا تاکہ عوامی زندگیوں کو محفوظ تر بنایا جائے اور سیفٹی سٹینڈرڈز پر پوری طرح عمل درآمد ہو سکے۔یہ ٹریفک قانون یکم اکتوبر 2020 سے لاگو ہو گا۔جبکہ العین اور الظفرہ میں بھی یہ قانون یکم جنوری 2020 سے لاگو ہو گا۔نئے قانون کے مطابق :۔ اگر کسی جگہ ایسی گہری کھدائی اور توڑ پھوڑ کی جائے جس سے جس سے سڑک پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ آئے،اس دوران اگر راہگیروں اور گاڑیوں کی حفاظت کے لیے کنارے پر کنکریٹ بیریئر نہیں لگائیں جائیں گے یا پلاسٹک بیریئرز میں ریتاور پانی بھر کر نہیں لگایا جائے گا تو جرمانہ عائد ہو گا۔  کسی پراجیکٹ پر کام کرنے والی گاڑیوں کو اس انداز سے کھڑی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جس سے ٹریفک جام ہو جائے یا گاڑیوں اور راہگیریوں کو گزرنے میں دشواری ہو، ایسی صورت میں بھی جرمانہ اد اکرنا ہو گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎