بھارت عمران خان اور طیب اردگان کی دوستی سے خوفزدہ بھارتی میڈیا نے منفی پراپیگنڈہ شروع کردیا

  ہفتہ‬‮ 19 ستمبر‬‮ 2020  |  14:03

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر اور پاکستان مل کر بھارت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔بھارتی میڈیا کا دعویٰ ،تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے پر بھارتی میڈیا نے پاکستان کے ساتھ ساتھ ترک صدر کے خلاف بھی پراپیگنڈا مہم شروع کر دی۔جس میں ترک صدر طیب اردگان کی ایما پر ترک میڈیا میں پاکستانی اور کشمیری صحافیوں کو شامل کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے،بھارتی میڈیا نے پراپیگنڈے سے بھرپورایک رپورٹ شائع کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ 15 اگست کو ترک خبر رساں ادارے کی ویب سائٹ پر شائع


ہونے والی کشمیر کے حریت پسند رہنما کی بیٹی کا مضمون بھارت کو بدنام کرنے کی کوشش تھی۔بھارتی رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیاکہ ترک صدر ترکی میں اسلام پسند حلقوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر سے ترکی میڈیا میں اسلامی شدت پسندوں کو بھرتی کر رہے ہیں۔رپورٹ میں دعویٰ کیاکہ بھارت کو بدنام کرنے کے لیے پاکستان خاص طور پر ترک میڈیا میں صدر اردگان کی حمایت سے ایسے تربیت یافتہ پاکستانی صحافیوں کو بھرتی کیا جا رہا ہے جو بالخصوص کشمیر سے متعلق ایسی رپورٹنگ کرتے ہیں جس کے باعث عالمی سطح پر بھارت کا تاثر خراب ہو۔یا درہے کہ ترکی نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎