اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

بھارت کے سرکردہ وکیل ٹویٹ کی وجہ سے توہین عدالت کے مجرم قرار

datetime 15  اگست‬‮  2020 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی سپریم کورٹ نے ملک کے سرکردہ وکیل پرشانت بھوشن کو ججوں کے بارے میں ان کی ایک ٹویٹ پر توہین عدالت کا قصوروار قرار دیا ہے۔ عدالت سزا کا تعین آئندہ ہفتے کریگی۔بھارتی ٹی وی کے مطابق انسانی حقوق کے سرکردہ کارکن اور معروف وکیل پرشانت بھوشن نے اپنی ایک ٹویٹ میں سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس اور چار دیگر سابق چیف جسٹس پرمبینہ نکتہ چینی کی تھی

جس کے بعد عدالت نے اس کا از خود نوٹس لیا تھا۔ جسٹس ارون مشرا کی قیادت والی تین رکنی بینچ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کے دوران پرشانت بھوشن کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کا یہ سنگین معاملہ ہے۔ عدالت اس بارے میں 20 اگست کو سزا کا تعین کرے گی۔ 1971 میں توہین عدالت سے متعلق جو ایکٹ منظور کیا گیا تھا اس کے مطابق پرشانت بھوشن کو توہین عدالت کے جرم میں جرمانے کے ساتھ چھ ماہ کی قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ لیکن قانون کے تحت اس بات کی گنجائش بھی ہے کہ اگر قصوروار اپنے بیان پر معافی طلب کرلے تو اسے معاف بھی کیا جا سکتا ہے۔رواں برس 22 جولائی کو سپریم کورٹ نے پرشانت بھوشن کی دو متنازعہ ٹویٹس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ بادی النظر میں ان ٹویٹس سے عدالتی نظام کی توہین ہوئی ہے۔ اس کے جواب میں پرشانت بھوشن کا کہنا تھا کہ آزادی فکر توہین عدالت نہیں ہوسکتی ہے۔لیکن اب عدالت نے اسے اپنی توہین قرار دیتے ہوئے انہیں قصوروار ٹھہرایا ہے۔عدالت کا کہنا تھاکہ ہماری رائے یہ ہے کہ ٹویٹر پر ان بیانات سے عدلیہ کی بدنامی ہوئی ہے۔ اورسپریم کورٹ، خاص طور پر چیف جسٹس اور ان کے آفس کے لیے، عوام کی نظر میں جو عزت و احترام ہے، یہ بیانات اس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پرشانت بھوشن نے اپنی ایک ٹویٹ میں بھارتی جمہوریت کی تباہی میں سپریم کورٹ کے چار سابق چیف جسٹس کو مورد الزام ٹھہرایا تھا جبکہ دوسری ٹویٹ میں موجودہ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے پر نکتہ چینی تھی۔انہوں نے لکھا تھا کہ بھارتی چیف جسٹس نے کورونا وباکے دور میں ہیلمٹ اور ماسک کے بغیر موٹر سائیکل کی سواری کی جبکہ عدالت کو لاک ڈان میں رکھ کر لوگوں کو انصاف جیسے حق سے محروم رکھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…