ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

بھارت کے سرکردہ وکیل ٹویٹ کی وجہ سے توہین عدالت کے مجرم قرار

datetime 15  اگست‬‮  2020 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی سپریم کورٹ نے ملک کے سرکردہ وکیل پرشانت بھوشن کو ججوں کے بارے میں ان کی ایک ٹویٹ پر توہین عدالت کا قصوروار قرار دیا ہے۔ عدالت سزا کا تعین آئندہ ہفتے کریگی۔بھارتی ٹی وی کے مطابق انسانی حقوق کے سرکردہ کارکن اور معروف وکیل پرشانت بھوشن نے اپنی ایک ٹویٹ میں سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس اور چار دیگر سابق چیف جسٹس پرمبینہ نکتہ چینی کی تھی

جس کے بعد عدالت نے اس کا از خود نوٹس لیا تھا۔ جسٹس ارون مشرا کی قیادت والی تین رکنی بینچ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کے دوران پرشانت بھوشن کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کا یہ سنگین معاملہ ہے۔ عدالت اس بارے میں 20 اگست کو سزا کا تعین کرے گی۔ 1971 میں توہین عدالت سے متعلق جو ایکٹ منظور کیا گیا تھا اس کے مطابق پرشانت بھوشن کو توہین عدالت کے جرم میں جرمانے کے ساتھ چھ ماہ کی قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ لیکن قانون کے تحت اس بات کی گنجائش بھی ہے کہ اگر قصوروار اپنے بیان پر معافی طلب کرلے تو اسے معاف بھی کیا جا سکتا ہے۔رواں برس 22 جولائی کو سپریم کورٹ نے پرشانت بھوشن کی دو متنازعہ ٹویٹس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ بادی النظر میں ان ٹویٹس سے عدالتی نظام کی توہین ہوئی ہے۔ اس کے جواب میں پرشانت بھوشن کا کہنا تھا کہ آزادی فکر توہین عدالت نہیں ہوسکتی ہے۔لیکن اب عدالت نے اسے اپنی توہین قرار دیتے ہوئے انہیں قصوروار ٹھہرایا ہے۔عدالت کا کہنا تھاکہ ہماری رائے یہ ہے کہ ٹویٹر پر ان بیانات سے عدلیہ کی بدنامی ہوئی ہے۔ اورسپریم کورٹ، خاص طور پر چیف جسٹس اور ان کے آفس کے لیے، عوام کی نظر میں جو عزت و احترام ہے، یہ بیانات اس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پرشانت بھوشن نے اپنی ایک ٹویٹ میں بھارتی جمہوریت کی تباہی میں سپریم کورٹ کے چار سابق چیف جسٹس کو مورد الزام ٹھہرایا تھا جبکہ دوسری ٹویٹ میں موجودہ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے پر نکتہ چینی تھی۔انہوں نے لکھا تھا کہ بھارتی چیف جسٹس نے کورونا وباکے دور میں ہیلمٹ اور ماسک کے بغیر موٹر سائیکل کی سواری کی جبکہ عدالت کو لاک ڈان میں رکھ کر لوگوں کو انصاف جیسے حق سے محروم رکھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…