’’عرب امارات اور اسرائیل معاہدہ ، مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطینی کاز کو دھوکا‘‘ دعا ہے آپ کو اپنا ملک چوری ہونے کی اذیت اور اپنے عزیزوں کو قتل ہوتا نہ دیکھنا پڑے،بڑے ملک نے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کر دیا

  جمعہ‬‮ 14 اگست‬‮ 2020  |  15:20

مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی )فلسطین نے متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم ہونے کے بعد امارات سے اپنا سفیر احتجاجا واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے پر اپنے ردعمل میں فلسطینی اتھارٹی کیجانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ الاقصی، مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطینی کاز کو دھوکا دیا گیا۔فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے رام اللہ سے جاری بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات حقیر معاہدے سے فوری پیچھے ہٹے۔اتھارٹی اعلامیے میں کہا گیا کہ


امارات کو حق نہیں پہنچتا کہ فلسطینی عوام کی طرف سے بات کرے، کسی کو فلسطینیوں کے امور میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔دوسری جانب امارات، اسرائیل سفارتی تعلقات کی بحالی پر فلسطینی رہنما حنان اشراوی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ دعا ہے آپ کو اپنا ملک چوری ہونے کی اذیت نہ سہنا پڑے، دعا ہے کہ آپ کو زیر قبضہ حراست میں جینے کا دکھ نہ برداشت کرنا پڑے۔حنان اشراوی نے مزید کہا کہ دعا ہے آپ کو اپنے گھر ڈھائے جانے کا منظر نہ دیکھنا پڑے، دعا ہے آپ کو اپنے عزیزوں کو قتل ہوتا نہ دیکھنا پڑے۔فلسطینی رہنما نے یہ بھی کہا دعا ہے آپ کے دوست ہی آپ کو سر بازار نہ بیچ دیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎