جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

سعودی ریٹائر استاد نے 250پرکشش قدرتی سیاحتی مقامات کا پتہ چلالیا

datetime 13  اگست‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب میں 25 سال تک محکمہ تعلیم میں ایک نسل کو تعلیم دینے اور ریٹائرمنٹ کے بعد سیاحتی سفر کرنے والے استاد صالح بن عبدالرحمان الغفیلی نے اپنے طویل سیاحتی سفر میں سعودی عرب کے 250 تاریخی،سیاحتی اور قدرتی مقامات کا پتا چلایا۔

سعودی کے چپے چپے کے سفر کے دوران الغفیلی نے 50 ایسی پہاڑی گھاٹیوں کے بارے میں تصاویر کے ساتھ معلومات حاصل کیں جن تک اس سے قبل کسی سیاح کی رسائی نہیں ہو سکی۔الغفیلی نے عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محکمہ تعلیم سے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاحت اور ملک کے دور دراز علاقوں کے سفر کو اپنا مشغلہ بنایا۔ اس سفر میں انہوں نے 700 قدرتی، تاریخی اور سیاحت کے حامل مقامات کی سیر کی۔ ان کا کہناتھا کہ وہ 25 سال تک مڈل اسکول میں طلبا کو تعلیم دیتے رہے۔ تاہم جو کچھ انہوں نے سعودی عرب کی سیاحت اور سفر کے دوران خود سیکھا وہ حیران کن ہے۔سعودی عرب ایک کھلا فطری جغرافیہ ہے جوں سمندر ، پہاڑوں ، وادیوں ،گھاٹیوں، غاروں کے ساتھ ساتھ پرکشش ماحولیاتی سیاحت کے مقامات سے مالا مال ہے۔ اس سرزمین میں تاریخی اور ارضیاتی یادگاروں کی بڑی تعداد موجود ہے تاہم ان کی تلاش اور انہیں منظر عام پر لانے دوسرے سیاحوں کو ان کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ صالح الغفیلی القسیم خطے کے الرس گورنری میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش ریلتے میدانوں اور پہاڑی چٹنوں میں ہوئی۔ انہیں بچپن ہی سے تاریخی مقامات کی سیر کا بہت شوق تھا تاہم انہوں نے عمر کے آخری حصے میں اپنا یہ شوق پورا کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…