سعودی عرب میں کتنے فی صد نوجوان غیر شادی شدہ ہیں،سرکاری اعدادوشمار میں حیران کن تفصیلات

  پیر‬‮ 10 اگست‬‮ 2020  |  17:36

ریاض (این این آئی )سعودی عرب میں نوجوانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں مملکت میں نوجوانوں سے متعلق اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے سرکارہ ادارہ برائے شماریات کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مملکت میں 66 فی صد نوجوان غیرشادی شدہ ہیں۔ مملکت کی 36 اعشاریہ 7 فیصد آبادی 15 سالسے 34 سال کے درمیان نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان میں 20 سال سے 24 سال کے درمیان نوجوان 27 اعشاریہہ 6 فی صد لڑکے ہیں جب کہ لڑکیوں کی تعداد


بھی اتنی ہی بتائی جاتی ہے۔ 25 سے 29 سال کے نوجوانواں کا تناسب 26 اعشاریہ 2 فی صد، جب کہ بچوں اور نوجوانوں کا کل آبادی میں تناسب 67 فی صد ہے۔اس تفصیلی رپورٹ میں سعودی عرب میں نوجوانوں کی عمریں، آبادی، تعداد، ان کے سماجی، اقتصادی، تعلیمی، طبی، ثقافتی اور تفریحی حالات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 15 سے 34 سال کے 66 اعشاریہ 23 فی صد افراد غیر شادی شدہ ہیں۔ لڑکیوں اور لڑکوں کی تعداد ملا کر یہ تناسب 75 فی اعشاریہ چھ فی صد بنتا ہے۔ خواتین میں 15 سے 34 سال کی 50 اعشاریہ 4 فی صد خواتین غیر شادی شدہ ہیں۔ 25 سے 34 سال کی 43 عشاریہ ایک فی صد خواتین کنواری ہیں جب کہ اسی عمر میں شادی شدہ لڑکیوں کا تناسب 43 اعشاریہ 3 فی صد ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 15 سے 34 سال کے 5 اعشاریہ 5 فی صد نوجوان دائمی بیماریوں کا شکار ہیں۔ ان میں بچوں کا تناسب 5 اعشاریہ 8 فی صد اور بچیوں کا 5 اعشاریہ 2 فی صد ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں نوجوان لڑکیوں کی اکثریت اپنی جسمانی فٹنس کے لیے ورزش کا اہتمام کرتی ہے۔سنہ 2007 سے 2017 کے درمیان 15 سے 34 سال کے نوجوانوں میں ناخواندگی کی شرح میں کمی آئی ہے۔مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ سعودی عرب میں 68 فی صد طلبا و طالبات کو حصول تعلیم میں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں۔ سنہ 2019 کی رپورٹ کے مطابق مملکت میں 99 اعشاریہ 8 فی صد بچے اسکول جاتے ہیں۔سعودی عرب میں موجود 15 سے 34 سال کے کل 1.489.520 افراد کسی کام کاج میں یا حصول تعلیم میں مصروف ہیں جن میں 47 فی صد سعودی شہری ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎