ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سلطنت عثمانیہ کے یونان میں موجود تاریخی مقامات کے ساتھ کیا ہوا؟ قدیم مساجد کو کانفرنس ہالز، تھیٹر، جیلز، میوزیم اور پارلیمنٹ ہاؤس میں تبدیل کرنے کیلئے کیا مکروہ طریقے استعمال کیے گئے ؟ ترک چینل نے ڈاکومنٹری نشر کردی

datetime 19  جولائی  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)یونان تاریخی اعتبار سے اہمیت کا حامل ملک ہے ، یونان جنوب مشرقی یورپ میں جزیرہ نما بلقان کے نشیب میں واقع ہے۔ یونان کی سرحدوں پر شمال میں البانیہ، مقدونیہ اور بلغاریہ اور مشرق میں ترکی واقع ہے۔ طویل جدوجہد کے بعد 1830ءمیں سلطنت عثمانیہ سے آزاد ہوا ،

یونان اورعثمانی حکومت کے درمیان ہمیشہ سے تعلقات میں کشیدگی رہی ۔ یونان کے ترکی سے الگ ہونے پر سلطنت عثمانیہ کی3000 کے قریب یادگاریں یونان کے حصے میں چلی گئیں ۔ جو تاریخی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل عمارتیں تھیں جو اب خستہ حالی کا شکار ہیں ۔ کئی سالوں سے ان کی دیکھ بحال ہوتی رہی پھر انہیں دیگر مقاصد کیلئے استعمال کیا جانے لگا ۔ ایک تاریخی مسجد کو پہلے ہسپتال پھر جیل کیلئے استعمال میں لائی گئی ۔ ایک اور مسجد کو کانفرنس ہال میں تبدیل کیاگیا بعد ازاں اس میں عجائبات رکھ کر میوزیم بنا دیا گیا ۔15ویں صدی میں تیار ہونے والی مسجد فتح  کو پہلے یونانی جیل کیلئے استعمال کیا گیا پھر اسے نمائشوں کیلئے مختص کیا گیا ۔ 15ویں صدی میں ہی بننے والی ایک اور حمزہ بے مسجد کے میناروںکو شہیدکرنے کے بعد اس میں غیر اخلاقی فلموں کی نمائش کرنے کیلئے تھیٹر میں تبدیل کیا ۔ 15ویں صدی تیار کی جانے والی مسجد بیرکلی کو پہلے بازار کا حصہ بنایا گیا پھر اس بالکل تباہ حالت میں چھوڑ دیا ۔ دنیا بھر میں تاریخی مقامات کو بچا کر رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے جو کہ عالمی قوانین اور ملکی آئین کے مطابق لازمی جزو ہے مگر یونان میں موجود ہزاروں تاریخی عمارتوں کو یا تو تباہ کر دیا گیا یا پھر ان کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ 18ویں صدی میںتیار کی جانے والی مسجد تزیستراکش میں عبادت یا نماز پڑھنے سے روکا گیا تھا پھر اس کے میناروں کو بھی شہید کیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…