منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اسرائیل کے سائنسدانوں نے کچرے سے سینیٹائزر تیار کرلیا

datetime 10  جولائی  2020 |

تل ابیب (اے ایف پی) اسرائیلی سائنسدانوں نے کچرے سے سینیٹائزر تیار کرلیا ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی کے ماہرین نے کاغذوں کی باقیات اور بھوسے سے ایتھانول تیار کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، اسرائیلی سائنس دانوں نے کچرے سے سینیٹائزر بنانے کا طریقہ دریافت کرلیا ہے۔ تل ابیب یونی ورسٹی کی پروفیسر ہداس مامانے اور ان کی ٹیم گزشتہ پانچ سال سے کچرے کو ری سائیکل کرکے الکوحل میں تبدیل کرنے

کے تجربات کررہی تھی۔ جب کہ کورونا وائرس کے پیش نظر انہوں نے کچرے کو ایتھانول میں تبدیل کرنے کا تجربہ کیا جس میں انہیں کامیابی ملی۔ عام حالات میں ایتھانول گنے اور مکئی سے تیار کی جاتی ہے، جو خاصہ مہنگا پڑتا ہے۔ تاہم، تل ابیب یونی ورسٹی کی ماہرین کی ٹیم نے ایتھانول فیکٹریوں سے حاصل شدہ کاغذوں کی باقیات، چڑیا گھر اور گھاس سے حاصل شدہ بھوسے سے تیار کیا، جو کہ سستے داموں تیار کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…