جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیزنے دل جیت لئے، پاکستانیوں سمیت تمام غیر ملکیوں اور مقامی افرادکیلئے زبردست شاہی فرمان جاری

datetime 16  اپریل‬‮  2020 |

جدہ( آن لائن )سعودی مملکت میں کرفیو کے باعث نجی شعبہ بہت بری طرح متاثر ہوا ہے۔ نجی شعبے کے لاکھوں مقامی اور تارکین وطن ملازمین کرفیو اور صنعتیں و کاروبار بند ہونے کے باعث مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایسے وقت میں خادم حرمین شریفین سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے نجی شعبے کی امداد کے لیے 129 ارب ریال کے شاندار پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔

اس پیکیج میں نجی شعبے کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 9 ارب ریال کی رقم مختص کی گئی ہے تاکہ کمپنیوں اور اداروں کے مالکان معاشی تنگی کے باعث اپنے ملازمین کو نوکریوں سے فارغ نہ کریں۔ اس کے علاوہ ریلیف اقدامات اور کچھ شعبوں کو ٹیکس سے مستثنی قرار دینے کے لیے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔اس امدادی پیکیج کا مقصد کورونا وائرس کے باعث ملکی معیشت اور کاروباری طبقے کو ہونے والے معاشی نقصان کا ازالہ کرنا ہے۔واضح رہے کہ 9 ارب ریال کے امدادی پیکیج کے تحت سعودی کارکنان کو اگلے تین ماہ کے لیے سوشل سیکیورٹی انشورنس کی جانب سے ماہانہ 9 ہزار ریال ادا کیے جائیں گے۔ جس کے لیے پہلے سعودی ملازمین کو سوشل سیکیورٹی انشورنس کے ادارے میں کلیم داخل کرانا ہوں گے، جس کے بعد انہیں اگلے تین ماہ 9ہزار ریال کی رقم ہر مہینے جاری کی جائے گی۔وزیر خزانہ محمد عبداللہ الجدعان کا کہنا تھا کہ سعودی فرمانروا کا یہ فیصلہ بہت شاندار ہے کیونکہ اس سے مقامی افراد کی موجودہ حالات کے باعث پیدا ہونے والی پریشانی ختم ہو جائے گی۔سوشل سیکیورٹی انشورنس قانون کے تحت وہ نجی ادارے جہاں سعودی کارکنوں کی تعداد 5 تک ہے انہیں سو فیصد امداد دی جائے گی جبکہ جن اداروں میں سعودی کارکنوں کی گنتی 5 سے زائد ہے انہیں 70 فیصد امداد دی جائے گی۔اس امدادی پیکیج سے نجی شعبے کے 12 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ سعودی کارکنان کو فائدہ ہو گا۔ امدادی رقوم کی ادائیگی یکم مئی 2020 سے شروع ہو گی، دوسری بار ادائیگی جون جبکہ تیسری ادائیگی جولائی کے مہینے میں کی جائے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…