جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

انسانی حقوق کی 6بین الاقوامی تنظیموں کا مقبوضہ کشمیر پر مشترکہ بیانپاکستان کا بھی ردعمل سامنے آگیا

datetime 7  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان نے انسانی حقوق کی چھ بین الاقوامی تنظیموں کے مقبوضہ کشمیر پر مشترکہ بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے بھارت سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قیدیوں کو فوری رہا اور انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ منگل کو ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ بین الاقوامی تنظیموں نے

بھارت سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قیدیوں کو فوری رہا اور انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے کہاکہ مشترکہ بیان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے مقبوضہ کشمیر میں کورونا کے خلاف اقدامات کر کے انسانی حقوق کا احترام کرنا چاہئے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ 5 اگست 2019 کے بعد سیاسی قیدیوں ، انسانی حقوق کے محافظوں اور مقبوضہ کشمیر کے گرفتار تمام افراد کو فوری رہا کیا جائے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ بین الاقوامی تنظیموں نے کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ اور بیرونی دنیا سے قیدیوں کو الگ تھلگ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ مشترکہ بیان میں کشمیری قیدیوں پر کئی دہائیوں تک ہونے والی زیادتیوں پر انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے اداروں کی طرف سے بار بار مذمت کی نشاندہی بھی کی گئی‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…