جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

نواسے آرچی کو امریکا میں خطرہ، شاہی جوڑا واپس لوٹ جائے، والد میگھن صورتحال پر شدید پریشان

datetime 30  مارچ‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)میگھن مارکل کے والد تھامس مارکل نے کہاہے کہ ان کے نواسے آرچی کو امریکا میں خطرہ، شاہی جوڑا واپس لوٹ جائے، غیر ملکی میڈیا کو دئیے ایک انٹرویو میں 75 سالہ تھامس مارکل نے نواسے آرچی کے لیے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ

شیر خوار آرچی بھی اس وبائی مرض میں مبتلا نہ ہوجائے۔تھامس مارکل نے بیٹی میگھن کے حوالے سے بھی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہزادہ ہیری اور میگھن کو شاہی محل واپس جانا چاہئے اور ملکہ ایلزبتھ کا ساتھ دینا چاہئے۔انہوں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہیری اور میگھن کو برطانیہ میں ہونا چاہئے لاس اینجلس میں نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ کیلیفورنیا میں میگھن کے کورونا وائرس کا شکار ہونے سے پریشان ہیں کیوں کہ امریکا دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہے۔انہوں نے جوڑے کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ ہیری اور میگھن کو سیلیبریٹی ہونے کی وجہ سے پیسہ کمانے میں تو کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا لیکن ان کا شاہی لقب انہیں زیادہ عزت دلواسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…