ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

چین نے بالآخر بدلہ لے لیا!! کرونا وائرس کے پیشِ نظر امریکا کو زبردست جھٹکا دے دیا، وزارتِ خارجہ کی تصدیق

datetime 18  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چین میں موجود تمام امریکی صحافی جو اس وقت یہاں اور نیویارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل اور واشنگٹن پوسٹ کےلیے کام کررہے ہیں ، دس دنوں کے اندر وہ چین سے نکل جائیں ۔ تفصیلات کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ نے اعلان کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ غیر ملکی صحافی یہاں چین میںموجود ہیں ،جو نیویارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل اور واشنگٹن پوسٹ کےلیے کام کررہے ہیں،

وہ سب کے سب آئندہ دس دن کے اندر اندر چین سے نکل جائیں۔ چینی حکومت نے ان اخبارات کے علاوہ وائس آف امریکا اور ٹائم میگزین سے یہ بتانے کا مطالبہ کیا ہے کہ آخر ان کے چینی بیورو آفسز میں کیا چل رہا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 3 مارچ کے روز امریکا میں چین کی پانچ سرکاری خبر رساں ایجنسیوں میں کام کرنے والے چینی صحافیوں کی مجموعی تعداد 100 تک محدود کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حالیہ چینی اقدام اسی کا ردِعمل قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب ایک بار پھر امریکی صدر نے کرونا کو پھر چینی وائرس کہہ دیا، چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ چین کو برا کہنے کی بجائے اپنے کام پر دھیان دیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین کے اعتراض کے باوجود امریکی صدر کرونا کو چینی وائرس کہہ رہے ہیں۔ مزید ایک ٹویٹ میں انہوں نے پھر سے چینی وائرس کی اصطلاح استعمال کی۔عالمی ادارہ صحت نے کہاکہ وائرس کو کسی خاص برادری یا علاقے سے جوڑ کر دیکھانا غلط ہے، امریکی اہلکاراور وزیر خارجہ پومپیو بھی اسے کئی بار ووہان وائرس کہہ چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…