محمد بن سلمان کو سعودی عرب کی کن دو طاقتور شخصیات سےخطرہ ہے ؟ فوج کے ذریعے بغاوت ، سی آئی اے کے سابق عہدیداروں کی مداخلت ، اگر سعودی ولی عہد شاہ سلمان کی زندگی میں بادشاہ نہ بن سکے تو پھر کیا ہوگا ؟ تہلکہ خیز انکشاف

  جمعہ‬‮ 13 مارچ‬‮ 2020  |  16:30

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)شاہی خاندان میں اقتدار کی جنگ تھمی نہیں،سعودی عرب میں فوج کے ذریعے بغاوت ہو سکتی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ کار مبشر لقمان نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ سعود عرب میں اقتدار کی جنگ کیلئے لڑائی جاری ہے ۔ فوج کے ذریعے بغاوت کی جا سکتی ہے ۔ سعودی ولی عہد سے اس وقت صرف دو شخصیات سے خطرہ لاحق ہے ،جن میں احمد بن عبدالعزیز اور محمد بن نائف شامل ہیں۔ ان دونوں کے پاس طاقت کیساتھ ساتھ پیسہ بھی ہے ۔ محمد بن سلمان کو ان دونوں شاہی افراد سے


خطرات لاحق ہیں ۔ سینئر اینکر پرسن نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت گرانے کیلئے شہزادہ محمد بن نائف کا سابق سی آئی اے عہدیدار نے ساتھ دیا ہے ۔ شہزاد محمد بن نائف کو اندرونی اور بیرونی سطح پر طاقتور شخصیات کی حمایت حاصل ہے ۔ جبکہ سعودی عرب میں بھی بہت سی قوتیں محمد بن سلمان کے حق میں نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی حکومت کو گرانے کی سازش بھی ہوئی ۔ مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سعودی بادشاہ شاہ سلمان اس وقت علیل ہیں ، ان کے صاحبزادے چاہتے ہیں کہ ان کی حیات میں اقتدار ان کے حوالے کر دیا جائے ۔ اگر وہ شاہ سلمان کی زندگی میں بادشاہ نہ بن سکے تو پھر سعودی عرب کا روایتی طریقہ کار اپنایا جائے گا ۔ محمد بن سلمان کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن ہار جاتے ہیں تو ڈیمو کریٹک پارٹی کی حمایت ان کے ہاتھ سے چلی جائے گی جس کی وجہ مشکلات میں چار گنا زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎