جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے،ہندوؤں کی جانب سے حاملہ مسلمان خاتون کے پیٹ پر لاتوں کی بارش، کرشماتی طور پر بچے کا محفوظ جنم

  جمعہ‬‮ 28 فروری‬‮ 2020  |  18:43

نئی دہلی(نیوز ڈیسک) شمال مشرقی دہلی کے کروال نگرمیں 30 سالہ شبانہ پروین کے لئے یہ بات ایک معجزے سے کم نہیں تھی جب انہوں نے ایک پرتشدد ہجوم کے بہیمانہ حملے میں زندہ بچ جانے کے بعد ایک صحتمند بچے کو جنم دیا۔پروین، ان کے شوہر، دو بچے اور ساس گھر کے اندر سو رہے تھے کہ جب ایک ہجوم ان کے گھر میں گھس گیا۔ پروین کی ساس نشیمہ نے میڈیا کو بتایا کہ مشتعل ہجوم نے گھر میں گھس کر میرے بیٹے کو زدوکوب کیا۔ ان میں سے کچھ نے تو میری بہو کے پیٹ پر لاتیں


بھی ماریں۔ جب میں اس کی حفاظت کے لئے آئی تو انہوں نے مجھے بھی پیٹا۔ ہمارا خیال تھا کہ اس رات ہم زندہ نہیں رہیں گے۔ لیکن خدا کے فضل سے ہم کسی طرح فسادیوں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، ہجوم نے ان کا گھر کو نذرآتش کر دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم پروین کو قریبی ہسپتال لے گئے لیکن وہاں کے ڈاکٹروں نے ہمیں الہند ہسپتال جانے کے لئے کہا جہاں انہوں نے بچے کو جنم دیا۔ اپنا گھر بار اور سازوسامان کھو نے کے باوجود، اس خاندان نے صدمے کو برداشت کیا ہے اور اب وہ ''معجزاتی بچے”کی پیدائش سے خوش ہیں۔ نشیمہ نے کہا کہ ان کو اس بات کا کوئی پتہ نہیں کہ پروین کو ہسپتال سے فارغ کرنے کے بعد ہم کہاں جائیں گے۔شمال مشرقی دہلی میں شہریت کے ترمیم کے قانون پر ہونے والے تشدد میں مشتعل ہجوم نے مکانات، دکانیں، گاڑیاں، پٹرول پمپ نذر آتش کئے اور مقامی لوگوں اور پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔ جھڑپوں سے بنیادی طور پر متاثرہ علاقوں میں جعفرآباد، موج پور، بابر پور، یامونا وہار، بھجن پورہ، چاند باغ اور شیو وہار شامل ہیں۔ واضح رہے کہ اب تک ان فسادات میں 39 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎