عمرہ زائرین پر پابندی اور مسجد نبوی کی زیارت روکنے کے بعد سعودی عرب نے کرونا وائرس سے متعلق ایک اور اہم اعلان کردیا

  جمعرات‬‮ 27 فروری‬‮ 2020  |  12:29

مدینہ منورہ،ریاض(این این آئی)سعودی وزارت صحت کے ترجمان نے مملکت میں کرونا وائرس کے معاملے کی تشخیص کے بارے میں افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کی وزارت صحت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ دمام میں کرونا وائرس کی موجودگی کے بارے میں سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ محکمہ صحت کے ترجمان نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ٹویٹر پر کسی بھی کسی قسم کی افواہ سے بچنے کے لیے سرکاری اکائونٹ @SaudiMOH937 کو فالو کریں۔ مملکت میں کرونا کے حوالے سے غیر مصدقہ باتوں اور


افواہوں پر کان نہ دھریں اور اس حوالے سے سرکاری بیان کا انتظار کریں۔دریں اثنا دنیا بھر میں تیزی کے ساتھ پھیلنے والے کرونا وائرس(کویڈ-19)کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر سعودی عرب کی حکومت نے کرونا سے متاثرہ ممالک سے عمرہ زائرین کی آمد عارضی طور پر روکنے کے ساتھ مسجد نبوی کی زیارت پر بھی پابندی لگا دی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کی حکومت نے کرونا سے متاثرہ ملکوں سے سیاحتی ویزوں پر آنے والے شہریوں کو بھی مملکت میں دخلے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے سیاحتی اور عمرہ ویزے جاری کرنے کا عمل روک دیا ہے۔وزارت خارجہ نے ایک یک بیان میں مزید کہا کہ سعودی شہریوں اور خلیج تعاون کونسل میں شامل ریاستوں کے شہریوں کے مملکت میں سفرکو معطل کر دیا۔ تاہم بیرون ملک سعودی شہری اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ وہ مملکت میں واپس آ سکتے ہیں۔ قومی شناخی کارڈ رکھنے والے افراد اور خلیج تعاون کونسل کے باشندے سعودی عرب سے باہر اپنے ملکوں کو سفر کرسکتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے واضح کیا گیا کہ عمرہ زائرین اور مسجد نبوی کی زیارت پر پابندی عارضی اقدامات ہیں جن کا مقصد کرونا وائرس کے خطرات کی روک تھام کرنا اور مملکت اور دنیا بھر کو اس وائرس سے بچانے میں مدد کرنا ہے۔اس کے علاوہ سعودی وزارت خارجہ نے شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ نئے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سامنا کرنے والے ممالک کا سفر نہ کریں۔وزارت برائے امور خارجہ نے بتایا کہ مملکت سعودی عرب میں صحت کے حکام نئے کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے مملکت بین الاقوامی معیارات پرعمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔


موضوعات: