جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کے باعث صحافی مزدوری پر مجبور

datetime 17  فروری‬‮  2020 |

سری نگر(این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پابندیوں کے باعث صحافی بے روزگار ہوگئے اور روزی روٹی کے حصول کے لیے مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں 29 سالہ صحافی منیب الاسلام 5 سال سے فوٹو جرنلسٹ کے طور پر کام کررہے تھے۔ان کی کھینچی گئی تصاویر نہ صرف بھارت کے اخبارات بلکہ غیر ملکی میڈیا کی بھی زینت بنتی رہیں۔

لیکن اگست 2019 میں مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے بھارت میں ضم کرلیا گیا اور احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لیے کرفیو سمیت سخت پابندیاں عائد کردی گئیں جن میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی بندش بھی شامل ہے۔مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں کے نتیجے میں منیب الاسلام اور ان جیسے دیگر کشمیری صحافیوں کے پاس رپورٹنگ کا کوئی ذریعہ نہیں رہا اور وہ بے روزگار ہوگئے۔ بھارتی اقدامات کے باعث صرف صحافی ہی بے روزگار نہیں ہوئے بلکہ کشمیر میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو معاشی طور پر شدید نقصان پہنچا۔منیب نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے شعبہ صحافت اس لیے اختیار کیا کہ کیونکہ میں اپنے لوگوں کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا، میں نے پوری لگن کے ساتھ کشمیر کے تنازع کی کوریج کی لیکن 5 اگست کے اقدام سے میرا یہ سفر رک گیا۔منیب کی اہلیہ بیمار ہیں اور وہ خاندان کی روزی روٹی کا بندوبست کرنے کے لیے 500 روپے دیہاڑی کے عوض زیر تعمیر عمارت پر اینٹیں ڈھونے کا کام کرتے ہیں۔ منیب کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ اور فون پر پابندی کے باعث ان کے پاس رپورٹنگ کا کوئی ذریعہ نہیں رہا۔یہ صرف منیب الاسلام کی کہانی نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر میں ہر صحافی کی اس وقت کم و بیش یہی صورتحال ہے۔ دیگر صحافیوں میں سے کوئی ڈیری فارم پر کام کررہا ہے تو کوئی اسی طرح کے چھوٹے موٹ کام کرکے پیٹ کا ایندھن بھرنے کی کوشش کررہا ہے۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…