جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

یوکرائنی مسافر بردار طیارے کی تباہی کی وجہ کیا بنی؟ ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا

datetime 12  جنوری‬‮  2020 |

تہران(این این آئی)ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر نے یوکرائنی مسافر بردار طیارے کی تباہی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ کمیونیکشن بریک ڈاؤن کی وجہ سے ایک میزائل آپریٹر نے یوکرائنی مسافر بردار طیارے کو کروز میزائل سمجھ کر نشانہ بنایا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی پاسدران انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل امیر علی حاجی زادے نے کہا کہ کمیونیکشن بریک ڈاؤن‘ کی وجہ سے ایک میزائل آپریٹر نے یوکرائنی مسافر بردار طیارے کو کروز میزائل سمجھ کر تباہ کیا۔حاجی ذادے نے کہا کہ اس آپریٹر نے میزائل فائر کرنے سے قبل متعلقہ حکام سے مشورہ نہیں کیا، جواتنے بڑے حادثے کا سبب بنا۔ ایرانی پاسداران انقلاب فورس کے ایئرو سپیس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل امیر علی حاجی زادے نے کہا کہ آپریٹر نے بوئنگ 737 کو کروز میزائل سمجھ کر مار گرایا۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریٹر کے پاس صرف دس سکینڈ تھے کہ وہ فیصلہ کرتا کہ آیا اسے نشانہ بنانا ہے۔حاجی زادے نے کہاکہ متعدد سطحوں پر رپورٹ کیا گیا تھا کہ ملک کے خلاف کروز میزائل فائر کیے گئے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ معلومات آپریٹر تک پہنچی تھیں کہ جنگی صورتحال ہے اور اس نے (طیارے کو) کو کروز میزائل سمجھ کر فائر کھول دیا۔حاجی زادے نے کہا کہ اس آپریٹر کو کنٹرول روم سے رابطہ کر کے تصدیق کرنی چاہیے تھی۔ لیکن بظاہر کمیونکیشن نظام میں خلل پڑ گیا تھا اور وہ متعلقہ حکام سے رابطہ نہ کر سکا، اس کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے صرف دس سکینڈ تھے اور بدقسمتی سے ان حالات میں اس نے یہ غلط فیصلہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…