جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

اسرائیل نے مسجد اقصی کی تاریخی دیوار کی توڑپھوڑ شروع کر دی  مرمت کی آڑ میں اس میں لگی کیا چیز نکالنے لگے؟ اہم انکشاف

datetime 7  جنوری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مقبوضہ بیت المقدس(این این آئی)القدس کی اسلامی اوقاف اور مسجد اقصی کے امور کے ذمہ دار ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل نے مرمت کی آڑمیں مسجد اقصی کی تاریخی کی توڑ پھوڑ شروع کردی ہے، مسجد اقصی کی جنوبی دیوار جسے الختنیہ دیواربھی کہا جاتا ہے کی مرمرمت کی آڑ میں توڑپھوڑ شروع ہے۔ یہ دیواراموی محلات کی تعمیر کے دور میں تعمیر کی گئی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق

فلسطینی اوقاف کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج اور پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں تعمیراتی عملے کے ارکان کو مسجد کی تاریخی دیوارپر کام کرے دیکھا گیا ہے۔فلسطینی اوقاف نے اسرائیلی ریاست سے مطالبہ کیا کہ مسجد اقصی کی دیواروں کی توڑپھوڑ سے باز رہے اور تاریخی دیوار کی توڑپھوڑ کے حوالے سے جاری تمام سرگرمیاں معطل کی جائیں۔محکمہ اوقاف کا کہنا تھا کہ صہیونی حکام دیوار کی مرمت کی آڑ میں اس میں لگے قیمتی پتھر نکالنے اور مسجد اقصی کے تاریخی حصے کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش کررہے ہیں۔بیان میں واضح کیا گیا کہ مسجد اقصی کا 11 دونم کا علاقہ صرف اور صرف مسلمانوں کی ملکیت ہے جس پرکسی دوسری قوم، مذہب یا غیرمسلم طبقے کا کوئی حق نہیں۔بیان میں مسجد اقصی کے ارد گرد جاری کھدائیوں کو مسلمانوں کے قبلہ اول کو دانستہ طور نقصان پہنچانے اور یہودی شرپسندوں کے مذموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہوئے وہاں پر مزعومہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی راہ ہموار کرنا ہے۔دوسری جانبفلسطین میں یہودی آباد کاری اور دیوار فاصل کے خلاف قائم کردہ کمیٹی کے چیئرمین ولید عساف نے کہا ہے کہ حالیہ عرصے کے دوران صہیونی ریاست کے القدس میں یہودی آباد کاری کے پروگرام میں غیرمعمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔ فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری، املاک کو تباہ کرنے اور یہودی کالونیوں کے قیام کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق رام اللہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے العساف نے کہا کہ اسرائیلی ریاست کی طرف سے فلسطینی علاقوں بالخصوص بیت المقدس میں

استعماری پروگرام کو مسلط کرنے کے لیے انسانی حقوق کی  خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی حکومت بیت المقدس کو مکمل طورپر الگ تھلگ کرنے اور مسجد اقصی کو یہودیانے اور اسے تقسیم کرنے کے لیے دن رات سازشی اسکیموں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ فلسطینی اراضی میں 686 املاک کی مسماری کے واقعات کا اندراج کیا گیا جن میں مسماری کے 300 واقعات بیت المقدس میں

ریکارڈ پرآئے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی ریاست یہودی آباد کاری، توسیع پسندی اور فلسطینیوں کی املاک مسماری کے ذریعے القدس کو دوسرے فلسطینی علاقوں سے الگ تھلگ کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی آبادی پرعرصہ حیات تنگ کیے ہوئے ہے۔ گذشتہ برس ایک ہی ہلے میں وادی الحمص کی صور باھر کالونی میں 82 اور شعفاط کیمپ میں ایک ہی دن میں 22 مکانات مسمار کیے گئے۔عساف کا کہنا تھا کہ

فلسطینیوں کی املاک مسماری سنہ 2018 میں انفرادی کارروائیوں سے اجتماعی شکل میں منتقل ہوئی۔ صہیونی حکام کی طرف سے بیت المقدس کے سات نواحی قصبوں سوسیا، الخان الاحمر، خربہ مکحول، عین الحلو، ام الجمال، الفارسیہ اور جبل البابا میں فلسطینیوں کے گھروں اور دیگر املاک کومسمارکرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…