جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ایران امریکا کشیدگی،2برطانوی جنگی بیڑے خلیج فارس روانہ ، وزیراعظم بورس جانسن نے اپنی چھٹیاں منسوخ کر دیں

datetime 5  جنوری‬‮  2020 |

تہران ،واشنگٹن،لندن(آن لائن) ایرانی جنرل قاسم سیلمانی کے قتل کے بعد حالیہ ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں برطانوی حکومت نے 2 جنگی بیڑے خلیج فارس روانہ کر دیئے ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اپنی چھٹیاں بھی منسوخ کرکے وطن واپسی کا اعلان کر دیا ۔

وہ کیئریبین کے مسٹیک آئی لینڈ میں چھٹیاں گزار رہے تھے۔مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر برطانیہ نے ایچ ایم ایس مونٹروز اور ڈیفنڈرز خلیج فارس میں موجود برطانوی جہازوں کی حفاظت کریں گے، یہ بحری بیڑے آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکس اور برطانوی شہریوں کو بھی نکالیں گے۔دوسری جانب واشگنٹن میں وائٹ ہاؤس کے باہر عوام کے بڑے ہجوم نے امریکی اقدامات اور جنرل قاسم کی ہلاکت کیخلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا کر ٹرمپ ہوٹل کے سامنے مارچ بھی کیا، مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ عراق، شام اور افغانستان سے امریکی فوج نکالی جائے،سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع اگلے 2 روز میں امریکا اور برطانیہ کا دورہ کریں گے۔ شاہ خالد وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ سعودی میڈیا کے مطابق دورے کا مقصد خطے میں بڑھتے تناؤ اور امن و استحکام کو کم کرنا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک روز قبل اس دورے کیلئے ہدایت جاری کی تھیں۔سعودی فرماں رواں شاہ سلمان نے بھی عراقی صدر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا،شاہ سلمان نے فون پر خطے میں جاری بحران کو ختم کرنے پر زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ خطے میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے تمام اقدامات اٹھائے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…