جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ایرانی جنرل سلیمانی کو مارنے کے بعدڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی نیوز کانفرنس ،ایسی بات کہہ دی کہ ایرانی عوام غصے سے آگ بگولہ ہوجائینگے

datetime 4  جنوری‬‮  2020 |

واشنگٹن( آن لائن ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کا مقصد جنگ کا آغاز نہیں بلکہ جنگ روکنا ہے۔ صدر کی حیثیت سے قوم اور امریکی شہریوں کا تحفظ میرا فرض ہے اور ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کا حکم بھی میں نے دیا تھا جس میں دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد کو ہلاک کیا گیا۔

نیوز کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ قاسم سلیمانی امریکی سفارت کاروں اور فوجیوں پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ امریکی صدر نے کہا ہماری پالیسی ہے کہ جو دہشت گرد کسی بھی امریکی شہری، سفیراور ہمارے شراکت داروں کو نقصان پہنچائے گا ہم سے ڈھونڈ کر ختم کردیں گے۔ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کی زیرقیادت ملیشیا نے سینکڑوں امریکی شہریوں کو ہلاک و زخمی کیا تھا۔ بغداد ایئرپورٹ پر راکٹ حملے میں ایک امریکی شہری ہلاک اور چار زخمی ہوئے اور پھر امریکی قونصل خانے پر دھاوا بولا گیا جس کے بعد ہم نے سلیمانی کو ہلاک کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ قاسم سلیمانی گزشتہ ایک سال سے مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام کا شکار کرنے کیلئے دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے تھے اور اب ہم سکھ کا سانس لے سکتے ہیں کہ ان کی دہشت ختم ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی جنرل کو بہت پہلے ہلاک کردینا چاہیے تھا تاکہ بہت ساری زندگیاں بچ سکیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ پوری دنیا میں امریکیوں کو جہاں بھی خطرہ ہوا ہم نے تمام اہداف کی شناخت پہلے سے کر رکھی ہے میں بالخصوص ایران کے متعلق ہرضروری قدم اٹھانے کیلئے تیار ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…