جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

مسلمانوں کیخلاف بھارتی اقدامات ،امریکی اخبار کی شدید مذمت مودی سرکار کے چھپے عزائم بے نقاب ، رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

datetime 20  دسمبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے ایڈیٹوریل مراسلے میں بھارت کے نئے شہریت کے قانون کی مذمت کردی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی اخبارکے ایڈیٹوریل میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وادی کو یونین کے ساتھ الحاق کرنے اور آسام میں 20 لاکھ مسلمانوں کو ریاست سے محروم کرکے محض ہجوم کا درج دینے پر بھی مذمت کی گئی۔

اخبارکے مطابق اس قانون کا مقصد تارکین وطن کی مدد کرنا ہرگز نہیں بلکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے وزیر داخلہ امیت شاہ کی تشہیر ہے۔اخباراپنے ایڈیٹوریل میں کہا کہ بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں نے قانون سے متعلق ٹھیک اندازہ لگایا۔ایڈیٹوریل میں کہا گیا کہ شہریت سے متعلق قانون کا مقصد مسلمانوں کو پسماندہ کرنا اور بھارت کو صرف ہندوؤں کا ملک قرار دینا ہے جبکہ مسلمان 1 ارب 30 کروڑ آبادی میں 80 فیصد ہیں۔واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرکے کرفیو نافذ کردیا اور تاحال وادی میں مواصلات کا نظام معطل ہے۔علاوہ ازیں بھارت فورسز نے متعدد کشمیری رہنماؤں کو گرفتار اور نظربند کردیا تھا۔اقوام متحدہ نے بھی بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیرکی ریاستی حیثیت چھیننے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔اخبارنے کہا کہ اگست میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جارحانہ انداز شمال مشرقی ریاست آسام میں شہریت سے متعلق اقدام کو بطور ٹیسٹ پروگرام کے تحت چلایا جس میں تقریباً 20 لاکھ بیشتر مسلمانوں کو ریاست کی چھت سے محروم کردیا۔اخبار نے کہا کہ نریندر مودی مسلمانوں کے لیے وسیع پیمانے پر حراستی کیمپ تعمیر کررہا ہے۔اخبارنے اپنے ایڈیٹوریل میں کہا کہ نیا قانون مسلمانوں کے علاوہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو تیزی سے شہریت کی پیش کش کرتا ہے اور قانون میں ہمسایہ ممالک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کا ذکر ہے۔امریکی جریدے کے مطابق یہ چھپی ہوئی بات یہ نہیں ہے کہ ایسے ممالک میں مسلمان مہاجر نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ روہنگیا جیسے لوگ جن میں سے بیشتر میانمار میں وحشیانہ جبر سے بنگلہ دیش فرار ہونے کے بعد بھارت پہنچ گئے ہیں۔اخبار کے مطابق امیت شاہ جو بنگلہ دیش کے تارکین وطن مسلمانوں کو دیمک سے تعبیر کرتے ہیں، انہوں نے مسلمانوں کو ٹارگیٹ کیا۔ایڈیٹوریل میں کہا گیا کہ مشتعل ہندوؤں کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے واقعات لاتعداد ہیں لیکن ہندوملزمان کو شاذ و نادر ہی سزا دی جاتی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…