جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

مسلمانوں کیخلاف بھارتی اقدامات ،امریکی اخبار کی شدید مذمت مودی سرکار کے چھپے عزائم بے نقاب ، رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

datetime 20  دسمبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے ایڈیٹوریل مراسلے میں بھارت کے نئے شہریت کے قانون کی مذمت کردی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی اخبارکے ایڈیٹوریل میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وادی کو یونین کے ساتھ الحاق کرنے اور آسام میں 20 لاکھ مسلمانوں کو ریاست سے محروم کرکے محض ہجوم کا درج دینے پر بھی مذمت کی گئی۔

اخبارکے مطابق اس قانون کا مقصد تارکین وطن کی مدد کرنا ہرگز نہیں بلکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے وزیر داخلہ امیت شاہ کی تشہیر ہے۔اخباراپنے ایڈیٹوریل میں کہا کہ بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں نے قانون سے متعلق ٹھیک اندازہ لگایا۔ایڈیٹوریل میں کہا گیا کہ شہریت سے متعلق قانون کا مقصد مسلمانوں کو پسماندہ کرنا اور بھارت کو صرف ہندوؤں کا ملک قرار دینا ہے جبکہ مسلمان 1 ارب 30 کروڑ آبادی میں 80 فیصد ہیں۔واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرکے کرفیو نافذ کردیا اور تاحال وادی میں مواصلات کا نظام معطل ہے۔علاوہ ازیں بھارت فورسز نے متعدد کشمیری رہنماؤں کو گرفتار اور نظربند کردیا تھا۔اقوام متحدہ نے بھی بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیرکی ریاستی حیثیت چھیننے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔اخبارنے کہا کہ اگست میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جارحانہ انداز شمال مشرقی ریاست آسام میں شہریت سے متعلق اقدام کو بطور ٹیسٹ پروگرام کے تحت چلایا جس میں تقریباً 20 لاکھ بیشتر مسلمانوں کو ریاست کی چھت سے محروم کردیا۔اخبار نے کہا کہ نریندر مودی مسلمانوں کے لیے وسیع پیمانے پر حراستی کیمپ تعمیر کررہا ہے۔اخبارنے اپنے ایڈیٹوریل میں کہا کہ نیا قانون مسلمانوں کے علاوہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو تیزی سے شہریت کی پیش کش کرتا ہے اور قانون میں ہمسایہ ممالک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کا ذکر ہے۔امریکی جریدے کے مطابق یہ چھپی ہوئی بات یہ نہیں ہے کہ ایسے ممالک میں مسلمان مہاجر نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ روہنگیا جیسے لوگ جن میں سے بیشتر میانمار میں وحشیانہ جبر سے بنگلہ دیش فرار ہونے کے بعد بھارت پہنچ گئے ہیں۔اخبار کے مطابق امیت شاہ جو بنگلہ دیش کے تارکین وطن مسلمانوں کو دیمک سے تعبیر کرتے ہیں، انہوں نے مسلمانوں کو ٹارگیٹ کیا۔ایڈیٹوریل میں کہا گیا کہ مشتعل ہندوؤں کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے واقعات لاتعداد ہیں لیکن ہندوملزمان کو شاذ و نادر ہی سزا دی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…