بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

فلسطینیوں کو حقوق سے محروم رکھ کر تنازع کو بڑھاوا دیا گیا،اردنی فرمانروا

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

عمان(این این آئی)اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین تنازعہ کے خاتمے کے لیے دو ریاستی حل واحد قابل عمل اور حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔ اس کا متبادل غیر مساوی قوانین کی حامل ایک نسل پرست ریاست ہوسکتی ہے جس میں بسنے والی ایک قوم کو زیادہ حقوق اور دوسری اقوام کو محروم رکھا جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اردنی فرمانروا نے ان خیالات کا اظہار فلسطینی عوام کے ساتھ

عالمی یکجہتی کے موقع پر اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے فلسطینی امور کے چیئرمین شیخ نیانغ کو لکھت گئے ایک مکتوب میں کیا۔خیال رہے کہ 29 نومبر کو ہرسال فلسطینیوں کے ساتھ عالمی سطح پر یوم یکجہتی منایا جاتا ہے۔شاہ عبداللہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ مسئلہ فلسطین کے ایک منصفانہ ، دیرپا اور جامع حل کے افق کی مسلسل عدم موجودگی مشرق وسطی میں جاری تنازع کو بڑھانے کا باعث بنی ہے۔یہ نہ صرف خطے کی سلامتی اور استحکام کو ختم کرنے کا ایک ذریعہ ہے بلکہ پوری دنیا کی سلامتی اور استحکام میں رکاوٹ ہے۔مکتوب میں کہا گیا ہے کہ یکطرفہ اقدامات کا تسلسل، فلسطینیوں کے حقوق سے انکار ، فلسطینی اراضی پر غاصبانہ قبضے، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، تنازعات اور مایوسی کو بڑھاوا دینے اور انتہا پسندی کی قوتوں کو طاقت ور بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔اپنے پیغام میں اردنی بادشاہ نے فلسطینی اسرائیل تنازعہ کو دو ریاستی فارمولے کے تحت حل کرنے کی کوششوں کو تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک منصفانہ اور جامع امن کے حصول کے لیے 4 جون ، 1967 کی سرحدوں پرایک آزاد ، خودمختار اور قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے ، جس میں مشرقی بیت المقدس اس کا دارالحکومت کا درجہ دیا جائے۔ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بھی فلسطینیوں اوراسرائیل کے درمیان جاری تنازع کو دو الگ الگ ریاستوں کیقیام پر زور دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…