بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

لیبیا سے پکڑے گئے دہشت گرد کو مصرکی فوجی عدالت سے سزائے موت

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

قاہرہ (این این آئی )مصر کی ایک فوجی عدالت نے چند ماہ قبل لیبیا سے پکڑ کر لائے گئے دہشت گرد ھشام عشماوی کو کئی دہشت گردانہ جرائم میں سزائے موت سنائی ہے جب کہ اس کے خلاف کئی دوسرے الزامات کا ٹرائل جاری ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق دہشت گرد ھشام عشماوی کو

مصرکی فوجی عدالت نے فرافرہ کیس کے نام سے مشہورمقدمہ میں سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔عشماوی کو متعدد جرائم کے مرتکب ہونے کے بعد موت کی سزا سنائی گئی ہے۔عشماوی پر سابق وزیر داخلہ میجر جنرل محمد ابراہیم کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے ، ان کے قتل کے لیے تصویر کشی اوراس سنگین اقدام کی حکمت عملی وضع کرنے کا الزام شامل ہے۔عشماوی کے جرائم میں 2013ء میں نہرسویز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد میں بھی شامل ہے۔اس کو دہشت گرد انصار بیت المقدس تنظیم کے ایک جنگجو کو دیگر عناصر کے ساتھ مل کراسماعیلیہ کے ایک سرکاری اسپتال سے ایک دہشت گرد ابو اسماء کا بھی قصور وار قرار دیا گیا۔عدالت نے انکشاف کیا کہ عشماوی نے ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں مسلح افواج کے پانچ زخمی ہوگئے تھے۔اس دہشت گرد نے قاہرہ ، اسماعیلیہ روڈ پر ایم 60 ٹینک لے جانے والے ٹینکر کے علاوہ ایک فوجی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا جس میں ایک افسر اور ایک سپاہی سوار تھے۔عدالت نے تصدیق کی کہ عشماوی نے دہشت گرد تنظیم کے دیگر ممبروں کے ساتھ مل کر 9 اکتوبر 2013 کو اسماعیلیہ میں کار بم دھماکے سے متعدد سکیو رٹی عمارتوں کو نشانہ بنایا تھا۔ھشام عشماوی پر مصر میں سرکاری تنصیبات ، سکیورٹی اہلکاروں اور سکیورٹی مراکز پر دوسرے دہشت گردوں کے ساتھ مل کرحملے کرنے کے بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…