جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

رافیل کی خرید میں بدعنوانی، تحقیق کی ضرورت نہیں،بھارتی سپریم کورٹ

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نئی دہلی(این این آئی)بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت نے کہاہے کہ دفاعی نکتہ نظر سے ہونے والے معاہدوں اور سودوں کی قیمتیں طے کرنا عدالت کے دائرے اختیار میں نہیں آتا اور یہ حکومت کا کام ہے جس کا وہ خیال رکھے گی۔بھارتی ٹی وی کے مطابق عدالت عظمی نے اس سے

متعلق گزشتہ دسمبر میں دو درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا جس میں رافیل جنگی طیاروں کی خرید میں بد عنوانی کا الزام عائد کرتے ہوئے، عدالت کے زیر نگرانی اس کی تفتیش کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ عرضیاں بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ دو سابق مرکزی وزراء اور سپریم کورٹ کے سرکردہ وکیل پرشانت بھوشن نے دائر کی تھیں۔ اسی فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی گئی تھی جسے عدالت نے پوری طرح سے مسترد کر دیا۔لیکن تین ججوں پر مشتمل بینچ کے اس فیصلے پر بحث پھر تیز ہوگئی ،چیف جسٹس رنجن گگوئی اور سنجے کشن کول نے قیمتوں سے متعلق کہاکہ دستاویزات سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ آم اور املی کی قیمت ایک نہیں ہوسکتی۔ لیکن جسٹس جوزف نے اپنے فیصلے میں اس کی آزادانہ تفتیش کا راستہ بھی ہموار کر دیا ہے اور کہا کہ کوئی بھی تفتیشی ایجنسی اس کی تفتیش کر سکتی ہے۔اس کیس کے ایک اہم عرضی گزار اور سپریم کورٹ کے معروف وکیل پرشانت بھوشن نے بھی اس فیصلے پر یہ کہہ کر مایوسی کا اظہار کیاکہ اس کیس میں ہماری اصل درخواست تو ایف آئی آر درج کروانا تھی جس پر عدالت نے کوئی بات ہی نہیں کی۔لیکن حال ہی میں سبکدوش ہونے والے بھارتیہ فضائیہ کے سابق سربراہ بی ایس دھنوا نے اس فیصلے کو سراہا ۔ ان کا کہنا تھاکہ میرے خیال سے اب اس کیس کو یہیں پر ختم کر دینا چاہیے، اس پر سیاست ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…