امریکا کا مشرق اوسط میں جنگ میں الجھنا’’بدترین فیصلہ‘‘ تھا : ڈونلڈ ٹرمپ کا اعتراف

  جمعرات‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2019  |  10:15

واشنگٹن (این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ مشرقِ اوسط میں امریکا کی فوجی مداخلت ایک بدترین فیصلہ تھا اور وہ وہاں سے اپنے فوجیوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنا رہے ہیں۔وائٹ ہاؤس نے گذشتہ اتوار کو شام کے شمالی علاقے میں موجود پچاس سے ایک سو تک امریکا کی خصوصی فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔اس فیصلے پر صدر ٹرمپ کو امریکا کی دونوں جماعتوں ری پبلکن اور ڈیموکریٹ سے تعلق رکھنے والے ارکان کانگریس کی کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ امریکا نے مشرقِ اوسط


میں جنگوں اور پولیس نظام پر اسّی کھرب ڈالر خرچ کردیے ہیں۔ہمارے ہزاروں عظیم فوجی مارے گئے ہیں یا بری طرح زخمی ہوئے۔دوسری جانب بھی لاکھوں لوگ مارے گئے ہیں۔مشرقِ اوسط میں جانا(فوجی مداخلت) ہمیشہ کے لیے ایک بدترین فیصلہ تھا۔وہ مزید لکھتے ہیں کہ ہمارے ملک کی تاریخ میں ہم جھوٹے اور اب غیر ثابت شدہ وعدوں کی بنا پر جنگوں میں کودے ہیں۔(عراق میں) وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار۔لیکن ایسا کچھ نہیں ملا تھا۔اب ہم دھیرے دھیرے اور محتاط انداز میں اپنے عظیم فوجیوں اور فوج کو وطن میں واپس لا رہے ہیں۔ہماری توجہ ایک بڑی تصویر پر مرکوز ہے۔ریاست ہائے متحدہ امریکا پہلے سے کہیں زیادہ عظیم تر ہے۔امریکی صدر 2003ء میں امریکا کی عراق پر چڑھائی کا حوالہ دے رہے تھے۔ان کے پیش رو ری پبلکن صدر جارج ڈبلیو بش نے عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا واویلا کیا تھا اور انھیں جواز بنا کرعراق پر حملہ کردیا تھا۔امریکا اور اس کے اتحادی برطانیہ کو عراق میں ایسے کوئی ہتھیار تو نہیں مل سکے تھے۔ان دونوں ملکوں کی مسلح افواج نے عراق کو ادھیڑ کر رکھ دیا تھا۔البتہ ان کا ایک مقصد پورا ہوگیا تھا اور وہ صدر صدام حسین کی حکومت کے خاتمے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن عراق آج بھی اس جنگ کا زخم خوردہ ہے۔وہ اس کے نتیجے میں عدم استحکام اور گوناگوں مسائل سے دوچار ہے اور وہاں وقفے وقفے سے مسلح شورشیں برپا ہوتی رہتی ہیں۔دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ترکی کا شمالی شام پر حملہ کرنے کا فیصلہ غلط ہے۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کو شام سے واپس بلالیا تھا جس کے بعد ترکی کو امریکا کے سابقہ اتحادی کرد جنگجوؤں پر حملہ کرنے کا موقع ملا۔ فوجیوں کو واپس بلانے کے فیصلے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت ریپبلکن پارٹی کے سینیئر اراکین سمیت واشنگٹن کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ٹرمپ کے فیصلے کو کرد ملیشیا کے ساتھ دھوکا قرار دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ کرد جنگجوؤں کے ساتھ مل کر امریکی فورسز نے شام سے داعش کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کی تھیں۔کردوں کے خلاف ترکی کی حالیہ کارروائی کے ردعمل میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اس حملے کو قبول نہیں کرتا۔امریکی صدر نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ترکی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ انسانی بحران کی صورتحال پیدا نہیں ہونے دے گا اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنے وعدے پر قائم رہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے داعش کے دوبارہ پروان چڑھنے کا موقع ملے گا۔ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ترکی نے شہریوں اور مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے اور اس کے علاوہ ترکی، داعش کو کسی بھی شکل میں دوبارہ قائم ہونے سے روکنے کا ذمہ دار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ ترکی اپنے تمام وعدوں پر پورا اترے گا اور ہم صورتحال کا قریب سے جائزہ لیتے رہیں گے۔ان کا یہ بیان وائٹ ہاؤس کی جانب سے طویل عرصے سے معاملے پر ملے جلے تاثر ملنے کی کڑی تھی جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ ترکی کے کردوں کے خلاف اقدامات کی راہ میں نہیں کھڑے ہوں گے، جبکہ اس ہی دوران اقدامات کرنے پر نیٹو کے اتحادی کو معاشی پابندیوں کی دھمکی بھی دی گئی تھیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر ترکی نے کچھ بھی ایسا کیا جسے میں حد سے تجاوز کرنا سمجھتا ہوں، تو میں ترکی کی معیشت پوری طرح سے تباہ کردوں گا اور میں ایسا پہلے بھی کر چکا ہوں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کم تعداد میں مگر سیاسی طور پر نمایاں فوجیوں کو شام-ترک سرحد سے واپس بلانا ان کا مشرق وسطیٰ کے تنازع میں پھنسے امریکی فوجیوں کے انخلا کے منصوبے کا حصہ ہے۔قبل ازیں انہوں نے کردوں کو دھوکا دینے کے الزامات مسترد کیے اور کہا تھا کہ ہم شام سے نکلنے کے مرحلے میں ہیں تاہم ہم کردوں کو تنہا نہیں چھوڑ رہے جو بہت اہم لوگ ہیں اور بہترین جنگجو ہیں۔

موضوعات:

loading...