بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ،فیصلے کی گھڑی آگئی

datetime 29  ستمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارت کی سپریم کورٹ مقبوضہ وادی کشمیر کو آئین کی شق 370 اور 35- اے کے تحت حاصل خصوصی حیثیت کے خاتمے کے حکومتی اقدام کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت یکم اکتوبر کو کرے گی۔ دائر درخواستوں کی تعداد 14 ہے۔بھارت میں برسراقتدار انتہا پسند ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے

نامزد مودی حکومت نے پانچ اگست کو ملکی آئین کی شق 370 کا خاتمہ کرکے مقبوضہ وادی چنار میں کرفیو نافذ کردیا تھا جو تاحال برقرار ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ شق 370 اور35-اے کے خاتمے کے خلاف دائر 14 درخواستوں کی سماعت کرے گا۔پانچ رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس این وی رمنا کریں گے جبکہ  جسٹس سنجے کرشن کول، جسٹس آر سبھاش ریڈی، جسٹس بی آر گاولی اور جسٹس سوریہ کانت بینچ کا حصہ ہوں گے۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مقبوضہ وادی کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت 28 اگست کو کی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے اس سلسلے میں پانچ رکنی آئینی بینچ بنانے کا اعلان کیا تھا۔سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے پر وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹسز بھی جاری کیے تھے۔ بھارت کی سپریم کورٹ مقبوضہ وادی کشمیر کو آئین کی شق 370 اور 35- اے کے تحت حاصل خصوصی حیثیت کے خاتمے کے حکومتی اقدام کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت یکم اکتوبر کو کرے گی۔ دائر درخواستوں کی تعداد 14 ہے۔بھارت میں برسراقتدار انتہا پسند ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے نامزد مودی حکومت نے پانچ اگست کو ملکی آئین کی شق 370 کا خاتمہ کرکے مقبوضہ وادی چنار میں کرفیو نافذ کردیا تھا جو تاحال برقرار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…