بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

یمن میں خون خرابہ، اجتماعی ہجرت، کرپشن اور بھوک کے پانچ سال مکمل

datetime 22  ستمبر‬‮  2019 |

صنعاء (این این آئی )یمن میں پانچ سال قبل ایران کی حمایت اور مدد سے شیعہ ملیشیا حوثی گروپ نے حکومت وقت کے خلاف بغاوت کرکے اس کا تختہ الٹ دیا۔ اس کے بعد ملک ایک نئی اور تباہ کن خانہ جنگی کا شکار ہوا اور آج پانچ سال بعد یمن کے عوام بدترین انسانی بحران کا سامنا کررہے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق یمنی باغیوں نے ملک کے عوام کو جرائم، دہشت گردی، خون خرابے، کرپشن، لوٹ مار اور بھوک و افلاس کے

سوا کچھ نہیں دیا۔ حوثیوں کی بغاوت کے نتیجے میں یمن اس وقت ملک دنیا کے بڑے بحران زدہ ملکوں میں شامل ہوچکا ہے۔حوثی باغیوں نے بھی لوگوں کے خلاف اپنا اسلحہ اٹھایا اور پانچ سال پیشتر انہوں نے دارالحکومت صنعا کے مرکز میں اپنی پہلی گولی چلائی۔ یمن جو ایک خوش حال اور پرامن ملک تھا حوثیوں کی دہشت گردی کی آماج گاہ بن کر غربت ، بھوک اور لوٹ مار کا مرکز بن چکا ہے۔موجودہ بغاوت کو یمن کی جدید تاریخ کی سب سے بڑی جنگ کے طور پر جانا جاتا ہے۔اس انقلاب کے یمن میں دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران پیدا کیا ہے۔ حوثی باغی اسے اپنی کامیابیوں میں شمار کرتے ہیں۔اس جنگ کو تضادات کی جنگ بھی کہا جاتا ہے۔ عوام بھوک ، ننگ، اور وبائی بیماری کے دہانے پر زندگی گزار رہے ہیں۔بلیک مارکیٹ پرقبضے نے حوثی لیڈروں کی دولت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ تین سال سے ملک کی آمدن کے بیشتر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن حوثی باغیوں کی جیبوں میں جارہی ہے۔یہ بدعنوانی ہی ہے جس نے لوگوں کو پانی ، ایندھن اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات سے محروم کردیا۔یمن میں جاری لڑائی کے دوران جہاں لاکھوں بچے اسکول جانے سے محروم ہیں وہیں حوثی ملیشیا ان کم سن جانوں کو جنگ کا ایندھن بنانے کے جرم سے بھی باز نہیں آرہی۔ بچوں کو قلم اور کتاب تھمانے کے بجائے ان کے ہاتھوں میں بندوق تھمائی جاتی ہے۔غربت زدہ والدین کو مجبور کیاجاتا ہیکہ وہ چند کوڑیوں کے عوض اپنے بیٹے کو جنگ میں بھرتی کرنے کی اجازت دیں۔اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق 50 لاکھ افراد جنگ کے باعث اس وقت پناہ گزین کیمپوں میں ہیں۔ رہی سہی کسر ہیضے کی وبا نے نکال دی ہے۔ اگرچہ حوثی باغی نعرہ توامریکا اور اسرائیل مردہ بادکا نعرہ لگاتے ہیں مگر فی الحال وہ یمن کے بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…