منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بچی کی جان بچانے کیلئے پاکستانی خاتون کا دبئی میں آپریشن،لاکھوں درہم کا بل ادا کرنا دسترس سے باہر ہوگیا، خاتون نے مدد کی اپیل کر دی

datetime 12  ستمبر‬‮  2019 |

دبئی (نیوز ڈیسک) ایک پاکستانی خاتون سیدہ خولا نے دبئی میں ہسپتال کا بل ادا کرنے کیلئے مدد کی اپیل کر دی، سیدہ خولا دبئی انوسٹمنٹ پارک میں موجود این ایم سی رائل ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ہیں، ان کے ہاں قبل ا ز وقت بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے، ان کا ہسپتال کا بل چار لاکھ پچاس ہزار درہم تک پہنچ گیا ہے جس پر انہوں نے ہسپتال کا بل ادا کرنے کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔

سیدہ خولا کی عمر 23 سال ہے اور وہ پاکستانی شہری اور اس وقت دبئی میں رہائش پذیر ہیں، انہیں حمل کے دوران کچھ پیچیدگیوں کا سامنا تھا اسی وجہ سے بچی کے دل کی دھڑکن انتہائی آہستہ ہو گئی اور قبل از وقت آپریشن کرنا پڑا، پاکستانی خاتون سیدہ خولا نے کہا کہ میری اور میری بچی کی کوئی ہیلتھ انشورنس نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ اس وقت مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کروں، میری بچی کو مزید انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں مزید علاج کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ جب تک میری بیٹی ہسپتال سے ڈسچارج ہو گی مجھے ڈر ہے کہ بل لاکھوں درہم تک پہنچ جائے گا اور اس وقت اتنی رقم لینے کس کے پاس جاؤں گی، سیدہ خولا نے کہا کہ ہم انگلینڈ جانا چاہتے تھے اور دبئی میں بچہ پیدا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن قسمت میں شاید یہی تھا۔ سیدہ خولا نے مزید کہا کہ میں معمول کے چیک اپ کے لیے ہسپتال گئی تو ڈاکٹرز نے مجھے پیچیدگیوں کے بارے بتایا اور اس وقت بچی کے دل کی دھڑکن بھی بہت آہستہ تھی جس پر مجھے داخل کر لیا گیا اور بچی کو بچانے کے لیے فوری طور پر آپریشن کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ بچی کی پیدائش اکتوبر میں ہونا تھی لیکن بچی کی جان بچانے کے لیے ڈاکٹرز نے قبل از وقت آپریشن کر دیا۔ سیدہ خولا نے بتایا کہ میری بچی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہے اور زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے، پاکستانی خاتون سیدہ خولا نے کہا کہ ہم بل ادا کرنے کے لیے عطیات فراہم کرنے والی تنظیموں سے بھی رابطہ کر رہے ہیں لیکن ابھی تک کہیں سے کوئی جواب نہیں ملا ہے، اس حوالے سے این ایم سی رائل ہسپتال کے ترجمان نے کہا کہ ہم اس خاندان کے معاشی حالات سے واقف ہیں ہم ان کی مدد کی حتمی الامکان کوشش کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…